حدیث:۔چوری' ڈاکہ' غصب' خیانت' رشوت' شراب' سینما' جوا' سٹہ' ناچ' گانا' جھوٹ' فریب' دھوکابازی' کم ناپ تول' بغیرکام کئے مزدوری اور تنخواہ لینا' سود وغیرہ یہ ساری کمائیاں حرام و ناجائز ہیں ۔ حدیث:۔جس شخص نے حرام طریقوں سے مال جمع کیا اور مرگیا تو اس کے وارثوں پریہ لازم ہے کہ اگر انہیں معلوم ہو کہ یہ فلاں فلاں کے اموال ہیں تو ان کو واپس کردیں اور نہ معلوم ہو تو کل مالوں کو صدقہ کردیں کہ جان بوجھ کر حرام مال کو لینا جائز نہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الخامس عشر فی الکسب،ج۵،ص۳۴۹)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو لازم ہے کہ ہمیشہ مال حرام سے بچتا رہے حدیث شریف میں ہے کہ مال حرام جب حلال مال میں مل جاتا ہے تو مال حرام حلال کو بھی برباد کر دیتا ہے اس زمانے میں لوگ حلال و حرام کی پرواہ نہیں کرتے یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے لیکن بہر حال ایک مسلمان کے لئے حلال و حرام میں فرق کرنا فرض ہے اوپر تم یہ حدیث پڑھ چکے ہو کہ خدا کے فرائض کے بعد رزق حلال تلاش کرنا بھی مسلمان کے لئے ایک فریضہ ہے۔
پیری مریدی کے لئے ہدایات
(۱)مرید کو چاہے کہ اپنے پیر کا ظاہر و باطن میں سامنے اور پیٹھ پیچھے انتہائی ادب و احترام رکھے پیر جو وظیفہ بتائے اس کو پابندی کے ساتھ پڑھتا رہے اور اپنے پیر کے بارے میں یہ اعتقاد رکھے کہ جس قدر ظاہری اور باطنی فیض مجھے اپنے پیر سے مل سکتا ہے اتنا اس