Brailvi Books

جنتی زیور
459 - 676
مساکین اور اپنے رشتہ داروں کی مدد کریں گے تو یہ مستحب بلکہ نفلی عبادتوں سے افضل ہے اور اگر اس نیت سے ہو کہ میرے وقار و عزت میں اضافہ ہوگا تو یہ بھی مباح ہے لیکن اگر مال کی کثرت اور فخر و تکبر کی نیت سے زیادہ مال کمائے تو یہ ممنوع ہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الخامس عشر فی الکسب،ج۵،ص۳۴۹)
ضروری تنبیہ:۔یاد رکھو کہ مال کمانے کی بعض صورتیں جائز ہیں اور بعض صورتیں ناجائز ہیں ہر مسلمان پر فرض ہے کہ جائز طریقوں پر عمل کرے اور ناجائز طریقوں سے دور بھاگے اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ۔
    لاَ تَأکُلُوۤا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ۔
    ''یعنی آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق مت کھاؤ''۔    (پ5،النساء:29)

    دوسری جگہ قرآن مجید میں رب تعالیٰ نے فرمایا کہ۔
کُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہُ حَلٰـلًا طَیِّبًا ۪ وَّاتَّقُوا اللہَ الَّذِیۡۤ اَنۡتُمۡ بِہٖ مُؤْمِنُوۡنَ ﴿88﴾
    ''یعنی اﷲ تعالیٰ نے جو روزی دی ہے اس میں سے حلال و طیب مال کو کھاؤ اور اﷲ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو''۔(پ7،المآئدۃ:88)

    ان آیتوں کے علاوہ اس بارے میں چند حدیثیں بھی سن لو۔

حدیث:۔صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ پاک ہے اور وہ پاک ہی پسند فرماتا ہے اور اﷲ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا چنانچہ اس نے اپنے رسولوں سے فرمایا کہ۔
یٰاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا۔
 (صحیح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب قبول الصدقۃ من الکسب۔۔۔الخ، رقم۲۳۰۱، ص ۶ ۵۰، پ۱۸،المؤمنون:۵۱)
Flag Counter