مسئلہ:۔اکھاڑوں میں کشتی لڑنا اگر لہو و لعب کے طور پر نہ ہو بلکہ اس سے مقصود اپنی جسمانی طاقت کو بڑھانا ہو تو یہ جائز ہے مگر شرط یہ ہے کہ ستر پوشی کے ساتھ ہو آج کل لنگوٹ اور جانگیا پہن کر جو کشتی لڑتے ہیں جس میں رانیں وغیرہ کھلی رہتی ہیں یہ ناجائز ہے اور ایسی کشتیوں کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے کیونکہ کسی کے ستر کو دیکھنا حرام ہے ہمارے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے رکانہ پہلوان سے کشتی لڑی اور تین مرتبہ اس کو پچھاڑا کیونکہ رکانہ پہلوان نے کہا تھا کہ اگر آپ مجھے پچھاڑ دیں تو میں مسلمان ہو جاؤں گا چنانچہ رکانہ مسلمان ہوگئے ۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب السابع عشر فی الغناء۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۵۲)
مسئلہ:۔اگر لوگ اس طرح آپس میں ہنسی مذاق کریں کہ نہ گالی گلوچ ہو نہ کسی کی ایذا رسانی ہو بلکہ محض پر لطف اور دل خوش کرنے والی باتیں ہوں جن سے اہل محفل کو ہنسی آجائے اور تفریح ہو جائے اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی تفریح اور مزاح رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم اور صحابہ علیھم الرضوان سے ثابت ہے ۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب السابع عشر فی الغناء۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۵۲)