مسئلہ:۔عید کے دن اور شادیوں میں دف بجانے کی اجازت ہے جب کہ ان دفوں میں جھانج نہ لگے ہوں اور موسیقی کے قواعد پر نہ بجائے جائیں بلکہ محض ڈھب ڈھب کی بے سری آواز سے فقط نکاح کا اعلان مقصود ہو۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب السابع عشر فی الغناء۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۵۲)
مسئلہ:۔رمضان شریف میں سحری کھانے اور افطاری کے وقت بعض شہروں میں نقارے یا گھنٹے بجتے ہیں یا سیٹیاں بجائی جاتی ہیں جن سے یہ مقصود ہوتا ہے کہ لوگ بیدار ہو کر سحری کھائیں یا انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ ابھی سحری کا وقت باقی ہے اورلوگوں کو معلوم ہوجائے کہ آفتاب غروب ہوگیا ہے اور افطار کا وقت ہو گیا یہ سب جائز ہیں کیونکہ یہ لہو و لعب کے طور پر نہیں ہیں بلکہ ان سے اعلان کرنا مقصود ہے اسی طرح ملوں اور کارخانوں میں کام شروع ہونے اور کام ختم ہونے کے وقت جو سیٹیاں بجائی جاتی ہیں یہ بھی جائز ہیں کہ ان سے لہو مقصود نہیں بلکہ اطلاع دینے کے لئے یہ سیٹیاں بجائی جاتی ہیں ۔
مسئلہ:۔کبوتر پالنا اگر اڑانے کے لئے نہ ہو تو جائز ہے اور اگر کبوتروں کو اڑانے کیلئے پالا ہے تو ناجائز ہے کیونکہ کبوتر بازی یہ بھی ایک قسم کا لہو ہے اور اگر کبوتروں کو اڑانے کے لئے چھت پر چڑھتا ہو جس سے لوگوں کی بے پردگی ہوتی ہو تو اس کو سختی کے ساتھ منع کیا