Brailvi Books

جنتی زیور
453 - 676
(۱۰)اس طرح نہ بیٹھے کہ لوگوں کے لئے جگہ تنگ ہو جائے (۱۱)نمازی کے آگے سے نہ گزرے (۱۲)مسجد میں تھوک اور کھنکھار نہ ڈالے (۱۳)انگلیاں نہ چٹخائے (۱۴)نجاست اور بچوں اور پاگلوں سے مسجد کو بچائے (۱۵)ذکر الٰہی عزوجل کی کثرت کرے
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الخامس فی آداب المسجد۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۲۱)
مسئلہ:۔قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کر کے پیشاب پاخانہ کرنا جائز نہیں ہے اسی طرح قبلہ کی طرف نشانہ بنا کر اس پر تیر چلانا یا گولی مارنا یعنی چاند ماری کرنا مکروہ ہے قبلہ کی طرف تھوکنا بھی خلاف ادب ہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الخامس فی آداب المسجد۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۲۰)
لہو و لعب کا بیان
مسئلہ:۔گنجفہ' چوسر' شطرنج' تاش کھیلنا ناجائز ہے حدیثوں میں شطرنج کھیلنے کی بہت زیادہ ممانعت آئی ہے ۔ایک حدیث میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ جس نے ''نرد شیر'' کھیلا گویا سور کے گوشت اور خون میں اپنا ہاتھ ڈال دیا ۔
 (سنن ابوداؤد،کتاب الادب،باب فی النھی عن اللعب بالنرد،رقم ۴۹۳۹،ج۴،ص۳۷۱)
     پھر یہ بھی وجہ ہے کہ ان کھیلوں میں آدمی اس قدر محو اور غافل ہو جاتا ہے کہ نماز وغیرہ دین کے بہت سے کاموں میں خلل پڑ جاتا ہے تو جو کام ایسا ہوکہ اس کی وجہ سے دینی کاموں میں خلل پڑتا ہو وہ کیوں نہ برا ہوگا۔
 (الدرالمختار،مع ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۵۰۔۶۵۱)
     یہی حال پتنگ اڑانے کا بھی ہے کہ یہی سب خرابیاں اس میں بھی ہیں بلکہ بہت سے لڑکے پتنگ کے پیچھے چھتوں سے گر کر مر گئے اس لئے پتنگ اڑانا بھی منع ہے غرض لہو ولعب کی جتنی قسمیں ہیں سب باطل ہیں صرف تین قسم کے لہو کی حدیث میں اجازت ہے
Flag Counter