مسئلہ:۔مسجدوں کی صفائی کے لئے ابابیلوں اور چمگادڑوں وغیرہ کے گھونسلوں کو نوچ کر پھینک دینا جائز ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الخامس فی آداب المسجد۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۲۱)
مسئلہ:۔مسجدوں میں جوتا پہن کر داخل ہونا مکروہ ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الخامس فی آداب المسجد۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۲۱)
یہ اس وقت ہے جب کہ جوتوں میں کوئی نجاست نہ لگی ہو اور اگر جوتوں میں نجاست لگی ہو تو ان ناپاک جوتوں کو پہن کر مسجد میں داخل ہونا سخت حرام ہے۔
مسئلہ:۔مسجد میں ان آداب کا خاص طور پر خیال رکھیں (۱)جب مسجد میں داخل ہو تو سلام کرے بشرط یہ کہ لوگ ذکر الٰہی عزوجل اور درس یا نماز میں مشغول نہ ہوں اور اگر مسجد میں کوئی موجود نہ ہو یا جو لوگ موجود ہوں وہ عبادتوں میں مشغول ہوں تو
اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا مِنْ رَّبِّنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْن (۲)
وقت مکروہ نہ ہو تو دو رکعت تحیۃا لمسجد ادا کرے (۳)خرید و فروخت نہ کرے(۴)ننگی تلوار لے کر مسجد میں نہ جائے(۵)گمی ہوئی چیز چلا کر مسجد میں نہ ڈھونڈے (۶)ذکر الہٰي عزوجل کے سوا آواز بلند نہ کرے (۷) دنیا کی باتیں مسجد میں نہ کرے (۸)لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے(۹)جگہ کے لئے لوگوں سے جھگڑا نہ کرے