Brailvi Books

جنتی زیور
452 - 676
جیسا کہ بمبئی اور کلکتہ میں مسجد کی تنگی کی وجہ سے چھت پر بھی جماعت ہوتی ہے۔
                (بہارشریعت،ج۳،ح۱۶،ص۱۲۱)
مسئلہ:۔عظمت اور احترام کے لحاظ سے سب سے بڑا درجہ مسجد حرام یعنی کعبہ مقدسہ کی مسجد کا ہے پھر مسجد نبوی کا پھر مسجد بیت المقدس کا پھر جامع مسجد کا پھر محلہ کی مسجد کا پھر سڑکوں کی مسجدوں کا۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الخامس فی آداب المسجد۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۲۱)
مسئلہ:۔مسجدوں کی صفائی کے لئے ابابیلوں اور چمگادڑوں وغیرہ کے گھونسلوں کو نوچ کر پھینک دینا جائز ہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الخامس فی آداب المسجد۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۲۱)
مسئلہ:۔مسجدوں میں جوتا پہن کر داخل ہونا مکروہ ہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الخامس فی آداب المسجد۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۲۱)
     یہ اس وقت ہے جب کہ جوتوں میں کوئی نجاست نہ لگی ہو اور اگر جوتوں میں نجاست لگی ہو تو ان ناپاک جوتوں کو پہن کر مسجد میں داخل ہونا سخت حرام ہے۔

مسئلہ:۔مسجد میں ان آداب کا خاص طور پر خیال رکھیں (۱)جب مسجد میں داخل ہو تو سلام کرے بشرط یہ کہ لوگ ذکر الٰہی عزوجل اور درس یا نماز میں مشغول نہ ہوں اور اگر مسجد میں کوئی موجود نہ ہو یا جو لوگ موجود ہوں وہ عبادتوں میں مشغول ہوں تو
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ
کہنے کی بجائے یوں کہے
اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا مِنْ رَّبِّنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْن (۲)
وقت مکروہ نہ ہو تو دو رکعت تحیۃا لمسجد ادا کرے (۳)خرید و فروخت نہ کرے(۴)ننگی تلوار لے کر مسجد میں نہ جائے(۵)گمی ہوئی چیز چلا کر مسجد میں نہ ڈھونڈے (۶)ذکر الہٰي عزوجل کے سوا آواز بلند نہ کرے (۷) دنیا کی باتیں مسجد میں نہ کرے (۸)لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے(۹)جگہ کے لئے لوگوں سے جھگڑا نہ کرے
Flag Counter