Brailvi Books

جنتی زیور
444 - 676
مسئلہ:۔دوا وعلاج کرنا جائز ہے جب کہ یہ اعتقاد ہو کہ درحقیقت شفا دینے والا اﷲتعالیٰ ہی ہے اور اس نے دواؤں کو مرض کے زائل کرنے کا سبب بنا دیا ہے اگر کوئی دوا ہی کو شفا دینے والا سمجھتا ہے تو اس اعتقاد کے ساتھ دوا علاج کرنا جائز نہیں ہے ۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الثامن عشر فی التداوی۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۵۴)
مسئلہ:۔حرام چیزوں کو دوا کے طور پر بھی استعمال کرنا جائز نہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو چیزیں حرام ہیں ان میں اﷲ تعالیٰ نے شفا نہیں رکھی ہے۔
 (سنن ابوداود،کتاب الطب ،باب فی الاد ویۃ المکروھۃ،رقم ۳۸۷۴،ج۴،ص۱۱)
انگریزی دوائیں بکثرت ایسی ہیں جن میں اسپرٹ الکحل اور شراب کی آمیزش ہوتی ہے ایسی دوائیں ہرگز استعمال نہ کی جائیں ۔
    (بہارشریعت،ج۳،ح۱۶،ص۱۲۶)
مسئلہ:۔شراب سے خارجی علاج بھی ناجائز ہے جیسے زخم میں شراب لگائی یا کسی جانور کے زخم پر شراب کا پھایا رکھا یا شراب ملے ہوئے مرہم یا لیپ کو بدن پر لگایا یابچہ کے علاج میں شراب کا استعمال کیا ان سب صورتوں میں وہ گنہگار ہوا جس نے شراب کو استعمال کیا یا کرایا۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الثامن عشر فی التداوی۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۵۵)
مسئلہ:۔کوئی شخص بیمار ہوا اور دوا علاج نہیں کیا اور مرگیا تو گنہگار نہیں ہوا ۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الثامن عشر فی التداوی۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۵۵)
مطلب یہ ہے کہ دوا علاج کرنا فرض یا واجب نہیں ہے کہ اگر دوا نہ کرے اور مر جائے تو گنہ گار ہو ہاں البتہ بھوک پیاس کا غلبہ ہو اور کھانا پانی موجود ہوتے ہوئے کچھ کھا یا پیا نہیں اور بھوک پیاس سے مر گیا تو ضرور گنہ گار ہوگا کیونکہ یہاں یقیناً معلوم ہے کہ کھانے پینے سے اس کی بھوک پیاس چلی جاتی اور بھوک پیاس کی وجہ سے اس کی موت نہ ہوتی۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الثامن عشر فی التداوی۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۵۵)
Flag Counter