Brailvi Books

جنتی زیور
443 - 676
بیماری اور علاج کا بیان
    رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲتعالیٰ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کے لئے شفابھی اتاری ۔
 (صحیح البخاری،کتاب الطب، باب ما انزل اللہ ۔۔۔الخ،رقم ۵۶۷۸،ج۴،ص۱۶)
    ابوداؤد و ترمذی و ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے خبیث دواؤں سے ممانعت فرمائی
 (جامع الترمذی،کتاب الطب،باب ماجاء فیمن قتل۔۔۔الخ،رقم۲۰۵۲،ج۴،ص۷)
اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے نظر بد سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی ہے۔
    (صحیح البخاری کتاب الطب،باب رقیۃ العین،رقم ۵۷۳۸،ج۴،ص۳۱)
بیمار پرسی:۔بیمار کا حال پوچھنا بڑے ثواب کا کام ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان کی بیمار پرسی کے لئے صبح کو جائے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور شام کو جائے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے مغفرت کی دعا مانگتے ہیں ۔
 (سنن ابو داود،کتاب الجنائز،باب فی فضل العبادۃ،رقم ۳۰۹۸،ج۳،ص۲۴۸)
    ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی بیمار پرسی کے لئے جاتا ہے تو آسمان سے ایک اعلان کرنے والا فرشتہ یہ ندا کرتا ہے کہ تو اچھا ہے اور تیرا چلنا اچھا ہے اور جنت کی ایک منزل کو تو نے اپنے ٹھکانا بنالیا ۔
 (سنن ابن ماجہ،کتاب الجنائز،باب ماجاء فی ثواب ۔۔۔الخ،رقم ۱۴۴۳،ج۲،ص۱۹۲)
مسئلہ:۔مریض کی بیمار پرسی کے لئے جانا سنت اور ثواب ہے لیکن اگر معلوم ہو کہ بیمار پرسی کو جائے گا تو مریض پر گراں گزرے گا تو ایسی حالت میں بیمار پرسی کو نہ جائے۔
                (بہارشریعت،ح۱۶،ص۱۲۵)
Flag Counter