Brailvi Books

جنتی زیور
442 - 676
    بہر حال یاد رکھو کہ بیوہ عورتوں سے نکاح یہ رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اور حدیث شریف میں ہے کہ جو کوئی کسی چھوڑی ہوئی اور مردہ سنت کو زندہ اور جاری کرے اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا لہٰذا مسلمان مردوں اور عورتوں پر واجب ہے کہ اس بیہودہ رسم کو دنیا سے مٹا دیں اور اﷲعزوجل و رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خوشنودی کے لئے بیوہ عورتوں کا نکاح ضرور کردیں اور ان بیچاری دکھیاری اﷲ کی بندیوں کو بیکسی اور تباہی و بربادی سے بچاکر ایک سو شہیدوں کا ثواب حاصل کریں اور بیوہ عورتوں کو بھی لازم ہے کہ اﷲعزوجل و رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے حکم کو اپنے سر اور آنکھوں پر رکھتے ہوئے بغیر کسی شرم اور عار کے خوشی خوشی دوسرا نکاح کر لیں اور سو شہیدوں کے ثواب کی حق دار بن جائیں اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ۔
وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَ اِمَائِکُمْ۔
اور نکاح کر دو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق غلاموں اور کنیزوں کا۔(پ 18،النور:32)

    اور حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ۔
من تمسک بسنّتی عند فساد امّتی فلہٗ اجر مائۃ شھیدٍ۔
    (الترغیب والترہیب،الترغیب فی اتباع الکتاب والسنۃ،رقم ۵،ج۱،ص۴۱)
    یعنی میری امت میں فساد پھیل جانے کے وقت جو شخص مضبوطی کے ساتھ میری سنت پر عمل کرے اس کو ایک سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔

    اس حدیث کو امام بیہقی علیہ الرحمۃ نے بھی ''کتاب الزہد'' میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے۔
Flag Counter