مسئلہ:۔احتکار کرنے والوں کو قاضی یہ حکم دے گا کہ اپنے گھر والوں کے خرچ کے لائق غلہ رکھ لے اور باقی فروخت کر ڈالے اگر وہ لوگ قاضی کے حکم کے خلاف کریں یعنی زائد غلہ نہ بیچیں تو قاضی ان لوگوں کو مناسب سزا دے اور ان لوگوں کی حاجت سے زیادہ جتنا غلہ ہوگا قاضی خود اس کو فروخت کر دے گا کیونکہ لوگوں کو پریشانی اور ضرر عام سے بچانے کی یہی صورت ہے ۔
(الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۵۷،۶۵۸)
مسئلہ:۔بادشاہ کو رعایا کی ہلاکت کا اندیشہ ہوتو ذخیرہ اندوزی کرنے والوں سے غلہ لے کر رعایا پر تقسیم کر دے پھر جب ان لوگوں کے پاس غلہ ہو جائے تو جتنا جتنا لیا ہے واپس دے دیں ۔
(الدرالمختار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۵۸)
مسئلہ:۔تاجروں نے اگر چیزوں کی قیمت بہت زیادہ بڑھا دی ہے اور بغیر کنٹرول کے کام چلتا نظر نہ آتا ہو تو حاکم چیزوں کی قیمتیں مقرر کر کے بھاؤ پر کنٹرول کر سکتا ہے اور کنٹرول کی ہوئی قیمت پر جو بیع ہوگی وہ جائز و درست ہوگی۔
(نصب الرایۃ،کتاب الکراہیۃ،فصل فی البیع،ج۴،ص۵۷۱)
ہر قسم کی شراب حرام اور نجس ہے تاڑی کا بھی یہی حکم ہے دوا کے لئے بھی اس کا پینا درست نہیں بلکہ جن دواؤں میں تاڑی یا شراب پڑی ہو اس کا کھانا اور بدن میں لگانا