Brailvi Books

جنتی زیور
437 - 676
اس کو بیچنا اور خریدنا جائز نہیں ۔
 (درمختار،کتاب البیوع،مطلب فی حکم ایجار البرک للاصطیاد،ج۷،ص۲۵۲)
مسئلہ:۔گوبر کو بیچنا اور خریدنا جائز ہے لیکن آدمی کے پاخانہ کو بیچنا اور خریدنا جائز نہیں ہاں البتہ اگر آدمی کے پاخانہ میں راکھ اور مٹی اس قدر مل جائے کہ مٹی اور راکھ غالب ہو جائے اور پاخانہ کھاد بن جائے تو اس کو بیچنا اور خریدنا جائز ہے ۔
    (الدرالمختار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۳۴)
مسئلہ:۔احتکار (ذخیرہ اندوزی) ممنوع ہے احتکارکے معنی یہ ہے کہ کھانے کی چیزوں کو اس لئے چھپا کر رکھ لینا کہ جب اس کا بھاؤ زیادہ گراں ہو جائے تو بیچے گا ایسا کرنے سے گرانی بڑھ جاتی ہے اور قحط کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے اور مخلوق خدا کو ضرر اور نقصان پہنچتا ہے اس لئے شریعت نے اس سے منع کیا ہے اور اس کے بارے میں بہت سی وعید کی حدیثیں آئی ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جو چالیس دن تک احتکار (ذخیرہ اندوزی) کریگا اﷲ تعالیٰ اس کو جذام (کوڑھ) اور مفلسی میں مبتلا کریگا اور ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ اس پر اﷲ اور فرشتوں اور تمام آدمیوں کی لعنت ہے اﷲ تعالیٰ نہ اس کی نفلی عبادتوں کو قبول فرمائے گانہ فرض عبادتوں کو (درمختارج۵ص۲۴۶)۔ احتکار (ذخیرہ اندوزی) انسان کے کھانے کی چیزوں میں بھی ہوتا ہے مثلاً اناج شکر وغیرہ اور جانوروں کے چارہ میں بھی ہوتا ہے جیسے گھاس بھوسا ۔
 (الدرالمختار مع ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۵۶۔۶۵۷/ سنن ابن ماجہ،کتاب التجارات ، باب الحکرۃ والجلب ،رقم۲۱۵۵،ج۳،ص۱۵)
مسئلہ:۔احتکار وہیں کہلائے گا جب کہ غلہ کا روکنا وہاں والوں کے لئے مضر ہو یعنی اس کی وجہ سے گرانی ہو جائے یا یہ صورت ہو کہ سارا غلہ اسی کے قبضہ میں ہے اس کے روکنے
Flag Counter