Brailvi Books

جنتی زیور
430 - 676
السلام کو جمائی نہیں آتی تھی یہ خیال دل میں لاتے ہی ہر گز جمائی نہیں آئے گی ۔
                    (بہارشریعت،ج۳،ص۱۶۷)
مسئلہ:۔جس کو چھینک آئے وہ بلند آواز سے
الحمدﷲ
کہے اور بہتر یہ ہے کہ
الحمد ﷲ رب العلمین
کہے اس کے جواب میں دوسرا شخص یوں کہے
یَرْحَمُکَ اﷲ
پھر چھینکنے والا
یَغْفِرُاللہُ لَنَا وَلَکُمْ
کہے ۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب السابع فی السلام وتشمیت العاطس،ج۵،ص۳۲۶)
مسئلہ:۔اگر ایک مجلس میں کسی کو کئی مرتبہ چھینک آئی تو صرف تین بار تک جواب دینا ہے اس کے بعد اسے اختیار ہے کہ جواب دے یا نہ دے ۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب السابع فی السلام وتشمیت العاطس،ج۵،ص۳۲۶)
مسئلہ:۔دیوار کے پیچھے کسی کو چھینک آئی اور اس نے الحمد ﷲ کہا تو سننے والے پراس کو جواب دینا واجب ہے ۔
 (ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۸۴)
مسئلہ:۔چھینکنے والے کو چاہے کہ سر جھکا کر پست آواز سے منہ کو چھپا کر چھینکے بہت ہی بلند آواز سے چھینکنا حماقت ہے۔
    (ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۸۴)
مسئلہ:۔بعض جاہل لوگ چھینک کو بدشگونی سمجھتے ہیں اگر کسی کام کے لئے جاتے وقت خود کسی کو یا کسی دوسرے کو چھینک آگئی تو لوگ یہ بدفالی لیتے ہیں کہ یہ کام نہیں ہوگا یہ بہت بڑی جہالت ہے اور بے عقلی کی دلیل ہے۔
                (بہارشریعت،ح۱۶،ص۱۰۳)
     حدیث میں آیا ہے کہ چھینک اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اوریہ بھی ایک حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بات کرتے ہوئے چھینک آجائے تو یہ چھینک اس بات پر ''شاہد عدل'' ہے
Flag Counter