| جنتی زیور |
بعض حدیثوں میں جو قیام کی مذمت آئی ہے اس سے مراد ایسے ہی شخص کے لئے قیام ہے یا اس قیام کو منع کیا گیا ہے جو عجم کے بادشاہوں میں رائج ہے کہ سلاطین اپنے تخت پر بیٹھے ہوتے ہیں اور اس کے ارد گرد تعظیم کے طور پر لوگ کھڑے رہتے ہیں آنے والے کے لئے قیام کرنا اس قیام میں داخل نہیں۔
(بہارشریعت،ج۳،ح۱۶،ص۱۰۰)
چھینک اور جمائی کا بیان
رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان ہے کہ چھینک اﷲ تعالیٰ کو پسند ہے اور جمائی ناپسند ہے جب کوئی چھینکے اور الحمدﷲ کہے تو جو مسلمان اس کو سنے اس پر حق ہے کہ یرحمک اﷲ کہے اور جمائی شیطان کی طرف سے ہے جب کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اس کو دفع کرے کیونکہ جب کوئی آدمی جمائی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے یعنی خوش ہوتا ہے کیونکہ جمائی کسل اور غفلت کی دلیل ہے ایسی چیز کو شیطان پسند کرتا ہے۔
(صحیح البخاری،کتاب الأدب،باب اذا تثاوب فلیضع۔۔۔الخ،رقم۶۲۲۶،ج۴،ص۱۶۳)
مسئلہ:۔جب چھینکنے والا الحمدﷲ کہے تو اس کی چھینک کا جواب دینا واجب ہے اور جس طرح سلام کا جواب فوراً ہی دینا اور اس طرح جواب دینا کہ وہ سن لے واجب ہے بالکل اسی طرح چھینک کا جواب بھی فوراً ہی اور بلند آواز سے دینا واجب ہے۔
(ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۸۳۔۶۸۴)
مسئلہ:۔جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اس کو روکے کیونکہ بخاری ومسلم کی حدیثوں میں ہے کہ جب کوئی جمائی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔
(صحیح البخاری،کتاب الأدب،باب اذا تثاوب فلیضع۔۔۔الخ،رقم۶۲۲۶،ج۴،ص۱۶۳)
جمائی روکنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے ہونٹ کو دانتوں سے دبالے اور جمائی روکنے کا ایک مجرب عمل یہ ہے کہ جب جمائی آنے لگے تو دل میں یہ خیال کرے کہ حضرات انبیاء علیہم