Brailvi Books

جنتی زیور
429 - 676
     بعض حدیثوں میں جو قیام کی مذمت آئی ہے اس سے مراد ایسے ہی شخص کے لئے قیام ہے یا اس قیام کو منع کیا گیا ہے جو عجم کے بادشاہوں میں رائج ہے کہ سلاطین اپنے تخت پر بیٹھے ہوتے ہیں اور اس کے ارد گرد تعظیم کے طور پر لوگ کھڑے رہتے ہیں آنے والے کے لئے قیام کرنا اس قیام میں داخل نہیں۔
                (بہارشریعت،ج۳،ح۱۶،ص۱۰۰)
چھینک اور جمائی کا بیان
    رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان ہے کہ چھینک اﷲ تعالیٰ کو پسند ہے اور جمائی ناپسند ہے جب کوئی چھینکے اور الحمدﷲ کہے تو جو مسلمان اس کو سنے اس پر حق ہے کہ یرحمک اﷲ کہے اور جمائی شیطان کی طرف سے ہے جب کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اس کو دفع کرے کیونکہ جب کوئی آدمی جمائی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے یعنی خوش ہوتا ہے کیونکہ جمائی کسل اور غفلت کی دلیل ہے ایسی چیز کو شیطان پسند کرتا ہے۔
 (صحیح البخاری،کتاب الأدب،باب اذا تثاوب فلیضع۔۔۔الخ،رقم۶۲۲۶،ج۴،ص۱۶۳)
مسئلہ:۔جب چھینکنے والا الحمدﷲ کہے تو اس کی چھینک کا جواب دینا واجب ہے اور جس طرح سلام کا جواب فوراً ہی دینا اور اس طرح جواب دینا کہ وہ سن لے واجب ہے بالکل اسی طرح چھینک کا جواب بھی فوراً ہی اور بلند آواز سے دینا واجب ہے۔
    (ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۸۳۔۶۸۴)
مسئلہ:۔جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اس کو روکے کیونکہ بخاری ومسلم کی حدیثوں میں ہے کہ جب کوئی جمائی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔
 (صحیح البخاری،کتاب الأدب،باب اذا تثاوب فلیضع۔۔۔الخ،رقم۶۲۲۶،ج۴،ص۱۶۳)
جمائی روکنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے ہونٹ کو دانتوں سے دبالے اور جمائی روکنے کا ایک مجرب عمل یہ ہے کہ جب جمائی آنے لگے تو دل میں یہ خیال کرے کہ حضرات انبیاء علیہم
Flag Counter