| جنتی زیور |
شخص نے بھی سلام کرلیا تو سب بری ہوگئے لیکن افضل یہ ہے کہ سب ہی سلام کریں یوں ہی اگر جماعت میں سے کسی نے بھی سلام کا جواب نہ دیا تو واجب چھوڑنے کی وجہ سے سب گنہ گار ہوئے اور اگر ایک شخص نے بھی سلام کا جواب دے دیا تو پوری جماعت الزام سے بری ہوگئی مگر افضل یہی ہے کہ سب سلام کاجواب دیں۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب السابع فی السلام۔۔۔الخ،،ج۵،ص۳۲۵)
مسئلہ:۔ایک شخص شہر سے آرہا ہے اور دوسرا شخص دیہات سے آرہا ہے دونوں میں سے کون کس کو سلام کرے بعض نے کہا کہ شہری دیہاتی کو سلام کرے اور بعض کا قول ہے کہ دیہاتی شہری کو سلام کرے اور اس مسئلہ میں سب کا اتفاق ہے کہ چلنے والا بیٹھنے والے کو سلام کرے' چھوٹا بڑے کو سلام کرے' سوار پیدل کو سلام کرے' تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں' ایک شخص پیچھے سے آیا یہ آگے والے کو سلام کرے ۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب السابع فی السلام۔۔۔الخ،،ج۵،ص۳۲۵)
مسئلہ:۔کافر کو سلام نہ کرے اور وہ سلام کریں تو جواب دے سکتا ہے مگر جواب میں صرف علیکم کہے اور اگر ایسی جگہ گزرتا ہو جس جگہ مسلمان اور کفار دونوں جمع ہوں تو السلام علیکم کہے اور مسلمانوں پر سلام کرنے کی نیت کرے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسے ملے جلے مجمع کو
''اَلسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدُیٰ''
کہہ کر سلام کرے ۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب السابع فی السلام۔۔۔الخ،،ج۵،ص۳۲۵)
مسئلہ:۔اذان و اقامت اور جمعہ و عیدین کے خطبہ کے وقت سلام نہیں کرنا چاہے ۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب السابع فی السلام۔۔۔الخ،،ج۵،ص۳۲۵۔۳۲۶)
مسئلہ:۔علانیہ فسق و فجور کرنے والوں کو سلام نہیں کرنا چاہے لیکن اگر کسی کے پڑوس میں فساق رہتے ہوں اور یہ اگر ان سے سختی برتتا ہے تو وہ اس کو پریشان کرتے ہوں اور ایذا