کہے اس کے سوا دوسرے سب طریقے غیر اسلامی ہیں۔
مسئلہ:۔اگر دوسرے کا سلام لائے تو جواب میں یہ کہنا چاہے ''
(الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الحظروالاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۸۵)
کہنا کافی ہے لیکن بہتر یہ کہ سلام کرنے والا
'' السلام علیکم ورحمۃ اﷲوبرکاتہ''
کہے اور جواب دینے والا بھی یہ کہے سلام میں اس سے زیادہ الفاظ کہنے کی ضرورت نہیں ۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب السابع فی السلام،ج۵،ص۳۲۵)
کا لفظ بھی سلام ہے مگر چونکہ یہ لفظ شیعوں میں مذہبی نشان کے طور پر رائج ہوگیا ہے کہ اس لفظ کے سنتے ہی فوراً ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہ شخص شیعہ مذہب کا ہے لہٰذا سنیوں کو سلام میں اس لفظ سے بچنا ضروری ہے۔
مسئلہ:۔سلام کا جواب فوراً ہی دینا واجب ہے بلاعذر تاخیر کی تو گنہ گار ہوا اور یہ گناہ سلام کا جواب دے دینے سے دفع نہیں ہوگا بلکہ توبہ کرنی ہوگی ۔
(ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۸۳)
مسئلہ:۔ایک جماعت دوسری جماعت کے پاس آئی اور ان میں سے کسی ایک نے بھی سلام نہ کیا تو سب سنت چھوڑنے کے الزام کی گرفت میں آگئے اور اگر ان میں سے ایک