Brailvi Books

جنتی زیور
395 - 676
ایک کا نام مسجد ابو بکر' دوسری کا نام مسجد عمر' تیسری کا نام مسجد عثمان اور چوتھی کا نام مسجد سلمان ہے ان پانچوں مسجدوں کو مساجد خمسہ کہا جاتا ہے یہ چاروں مقامات درحقیقت جنگ کے مورچے تھے اور یہ چاروں صحابہ کرام ایک ایک مورچہ پر متعین تھے ان حضرات نے ان مورچوں میں نمازیں بھی پڑھیں اس لئے یہ مورچے مسجد بن گئے۔

مسجد بنی حرام:۔سلع پہاڑی کی گھاٹی میں مسجد احزاب کو جاتے ہوئے داہنی طرف یہ مسجد واقع ہے اس کی تاریخ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اس جگہ نماز پڑھی ہے اسکے قریب ایک غار ہے جس پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم پر ایک مرتبہ وحی اتری تھی اور جنگ خندق کے موقع پر رات کو اس غار میں آرام فرمایا تھا اس کی بھی زیارت کرنی چاہے۔

مسجد ذباب:۔یہ مسجد ذباب کی پہاڑی پر ہے جو جبل احد کے راستہ کے بائیں جانب ہے جنگ خندق کے موقع پر اس جگہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام کا خیمہ گاڑا گیا تھا۔

مسجد قبلتین:۔یہ مسجد وادی عقیق کے قریب ایک ٹیلا پر ہے اسی جگہ بیت المقدس کے بجائے کعبہ شریف قبلہ مقرر ہوا اسی لئے اس کو مسجد قبلتین کہتے ہیں۔

مسجد فضیح:۔عوالی کے مشرقی حصہ میں یہ مسجد ہے اس جگہ بنو نضیر کے یہودیوں کا محاصرہ کرنے کی حالت میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نمازپڑھی تھی اس کا دوسرا نام ''مسجد شمس'' بھی ہے اس مسجد کو نجدی حکومت نے شہید کر ڈالا ہے۔

مسجد بنو قریظہ:۔محاصرہ بنی نضیر کے وقت یہاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے قیام فرمایا تھا یہ مسجد فضیح سے جانب مشرق تھوڑے فاصلہ پر ہے۔

مسجد ابراہیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ:۔یہ مسجد بنی قریظہ سے جانب شمال واقع ہے اس جگہ