Brailvi Books

جنتی زیور
392 - 676
حمزہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے مزار مقدس پر سلام عرض کرے اور حضرت عبداﷲ بن حجش اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما پر بھی سلام عرض کرے کہ ایک روایت میں ہے یہ دونوں یہیں مدفون ہیں۔
        (مناسک ملاعلی قاری،باب زیارۃ سیدالمرسلین،ص۵۲۵)
مدینہ طیبہ کے چند کنوئیں
(۱۶) مدینہ طیبہ کے وہ کنوئیں جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی طرف منسوب ہیں یعنی کسی سے وضو فرمایا کسی کا پانی نوش فرمایا کسی میں اپنا لعاب دہن ڈالا اگر کوئی جاننے والا اور بتانے والا ملے تو ان مبارک کنوؤں کی بھی زیارت کرو خاص کر مندرجہ ذیل کنوؤں کا خیال رکھو۔

بیر حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ:۔یہ کنواں وادیئ عقیق کے کنارے پر مدینہ منورہ سے تقریباً تین میل کے فاصلہ پر ایک باغ میں ہے اس کنوئیں کو ''بیر رومہ'' بھی کہتے ہیں یہ وہی کنواں ہے جس کا مالک ایک یہودی تھا اور مسلمانوں کو پانی کی تکلیف تھی تو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بیس ہزار درہم پر اس کنوئیں کو یہودی سے خرید کر مسلمانوں پر وقف کر دیا۔

بیر اریس:۔یہ کنواں مسجد قبا سے متصل پچھّم کی جانب ہے اس کو ''بیئر خاتم'' بھی کہا جاتا ہے اس لئے کہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے مہر نبوت کی انگوٹھی اس کنوئیں میں گر گئی اور بڑی تلاش و جستجو کے باوجود نہیں ملی حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اس کنوئیں کا پانی پیا اور اس سے وضو فرمایا اور اس میں اپنا لعاب دہن بھی ڈالا تھا۔

بیر غرس:۔یہ کنواں مسجد قبا سے تقریبا چار فرلانگ پورب اتر کونے پر واقع ہے اس کے
Flag Counter