سے۔ اے اﷲ! سچائی کے ساتھ مجھ کو داخل کر اور سچائی کے ساتھ مجھ کو باہر لے جا۔ الہٰی تو اپنی رحمت کے دروازے مجھ پر کھول دے اور اپنے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی زیارت سے مجھے وہ نصیب کر جو تو نے اپنے اولیاء اور فرمانبردار بندوں کے لئے نصیب کیا اور مجھے جہنم سے نجات دے اور مجھ کو بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اے بہتر سوال کئے گئے۔
(۵)پھر غسل و وضو اور تمام ضروریات سے فارغ ہو کر مسواک کرکے خوشبو لگا کر اور سفید و صاف کپڑے پہن کر آستانہ مقدسہ کی طرف انتہائی عاجزی و خاکساری اور ادب و احترام کے ساتھ متوجہ ہو اور روتے ہوئے مسجد نبوی کے دروازے پر صلوۃ و سلام عرض کرکے تھوڑا ٹھہرو گویا تم سرکار سے حاضری کی اجازت طلب کر رہے ہو پھر بسم اﷲ پڑھ کر پہلے داہنا پاؤں رکھ کر سراپا ادب بن کر داخل ہو اور محبوب کے خیال و تصور میں ڈوب جاؤ۔
(۶)یقین رکھو کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سچی حقیقی جسمانی حیات کے ساتھ ویسے ہی زندہ ہیں جیسے وفات شریف سے پہلے تھے ان کی اور تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ و السلام کی موت صرف وعدہ الہٰی کی تصدیق کے لئے ایک آن کے واسطے تھی ان کا انتقال صرف عوام کی نظروں سے چھپ جانا ہے چنانچہ امام محمد ابن حاج مکی مدخل میں اور امام احمد قسطلانی نے مواہب لدّنیہ میں اور دوسرے ائمہ دین نے فرمایا ہے کہ۔
''حضو اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی حیات و وفات میں اس بات میں کوئی فرق نہیں کہ وہ اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوں اور نیتوں کو اور ان کے دلوں کے خیالات کو خوب جانتے پہچانتے ہیں اور یہ سب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم پر اس طرح روشن ہے کہ قطعاً اس میں کوئی پوشیدگی نہیں''