Brailvi Books

جنتی زیور
374 - 676
ضروری ہدایت:۔یاد رکھو کہ حج کا احرام تین طرح کا ہوتا ہے ایک یہ کہ خالی حج کرے اس حاجی کو ''مفرد'' کہتے ہیں اور دوسرا یہ کہ یہاں سے فقط عمرہ کی نیت کرے اور عمرہ ادا کرکے مکہ مکرمہ میں حج کا احرام باندھے ایسے حاجی کو ''متمتع'' کہتے ہیں تیسرا یہ کہ حج و عمرہ دونوں کے لئے یہیں سے نیت کرے یہ سب سے افضل ہے اس کو قران کہتے ہیں اور ایسے حاجی کو قارن کہا جاتا ہے
 (بہار شریعت،ح۶،ص۳۸)
مگر ان تینوں قسموں میں تمتع زیادہ آسان ہے اور اکثر ہندوستانی لوگ یہی احرام باندھتے ہیں اس لئے ہم یہی آسان طریقہ لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ۔

    دو رکعت نماز سے فارغ ہو کر یہ دعا پڑھے۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ فَیَسِّرْھَالِیْ وَتَقَبَّلْھَا مِنِّیْ نَوَیْتُ الْعُمْرَۃَ وَاَحْرَ مْتُ بِھَا مُخْلِصاً لِلّٰہِ تَعَالٰی۔
    اے اﷲ میں عمرہ کا ارادہ کرتا ہوں اس کو تو میرے لئے آسان کردے اور میری طرف سے قبول فرمالے میں نے عمرہ کی نیت کی اور اس کا احرام باندھا خالص اﷲ تعالیٰ کے لئے۔

    اس نیت کی دعا کے بعد بلند آواز سے لبیک پڑھے لبیک یہ ہے۔
لَبَّیْکَ ؕ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ ؕ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ ؕ اِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ؕ لَا شَرِیْکَ لَکَ ؕ
    یعنی میں تیرے پاس حاضر ہو ااے اﷲ! میں تیرے حضور حاضر ہوا میں تیرے حضور حاضر ہوا تیرا کوئی شریک نہیں میں تیرے حضور حاضر ہوا بے شک تعریف اور نعمت اور بادشاہی تیرے ہی لئے ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔
Flag Counter