ٹکٹ وغیرہ کو بہر حال اپنے پاس رکھنا چاہے۔
حاجی جہاز پر:۔ہوائی جہاز کے مسافروں کو چاہے کہ بمبئی ہی میں احرام باندھ لیں اور جہاز پر سواری کی دعا پڑھ کر سوارہوں اور راستہ بھر لبیک کی دعا پڑھتے رہیں چند گھنٹوں میں یہ لوگ جدہ میں زمین پر اتر جائیں گے مگر سمندری جہاز والوں کو ایک ہفتہ سمندر ہی میں رہنا ہے اس لئے ان لوگوں کو مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہے۔
(۱)جہاز میں مختلف صوبوں کے رہنے والوں اور مختلف زبان بولنے والوں کا مجمع ہوتا ہے ایک دوسرے کے مزاج دان نہ ہونے سے اکثر جھگڑے تکرار کی نوبت آ جاتی ہے خصوصاً میٹھا پانی لینے کے وقت لائن لگانے میں اکثر گالی گلوچ بلکہ مار پیٹ ہو جایا کرتی ہے اس لئے جہاز پر بہت صبر و برداشت کے ساتھ رہنے کی ضرورت ہے حج کے سفر میں جھگڑا اور گالی گلوچ کرنا سخت حرام اور بڑا گناہ ہے۔
(۲)جہاز پر سوار ہونے کے بعد اپنا سب سامان اپنی سیٹ کے نیچے ترتیب سے رکھ کر جب مطمئن ہو جائیں تو وقت ضائع نہ کریں بلکہ حج میں مختلف جگہ پڑھنے کی دعائیں زبانی یاد کرنے میں مشغول ہو جائیں اور انتہائی کوشش کریں کہ ایک ختم قرآن مجید کی تلاوت سمندر میں پوری کرلیں اور نماز باجماعت کی ہر جگہ خاص طور پر پابندی رکھیں اور فضول باتیں خاص کر جھگڑے تکرار سے انتہائی پرہیز رکھیں۔
حاجی جدہ میں:۔جدہ میں جہاز سے اترتے وقت یہ بہت ضروری ہے کہ اپنے تمام سامان کو اچھی طرح باندھ کر ایک جگہ اپنی سیٹ کے اوپر رکھ دیں بکسوں کو رسیوں سے جکڑ دیں اور سامان کی بوری کو سی دیں تاکہ جہاز سے اتارتے وقت سامان کے ٹوٹنے پھوٹنے اور بکھر جانے کا خطرہ نہ رہے پھر صرف پاسپورٹ اور رقم ساتھ لے کر جہاز سے اتر