شرطیں نہ پائی جائیں تو خود حج کو جانا ضروری نہیں بلکہ دوسرے سے حج کرا سکتا ہے یا وصیت کر جائے مگر اس میں یہ بھی ضرور ہے کہ حج کرانے کے بعد آخر عمر تک خود قادر نہ ہو ورنہ خود بھی حج کرنا ضروری ہوگا وہ شرطیں یہ ہیں (۱)راستہ میں امن وامان ہونا یعنی اگر غالب گمان سلامتی کا ہو تو حج کے لئے جانا ضروری ہے اور غالب گمان یہ ہو کہ ڈاکہ یا لڑائی کی وجہ سے جان ضائع ہو جائے گی تو حج کے لئے جانا ضروری نہیں (۲)عورت کو مکہ تک جانے میں تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو تو اس کے ہمراہ شوہر یا محرم کا ہونا شرط ہے خواہ وہ عورت جوان ہو یا بڑھیا اور اگر تین دن سے کم کا راستہ ہو تو عورت بغیر شوہر اور محرم کے بھی جاسکتی ہے مگرمحرم سے مراد وہ مرد ہے کہ جس سے ہمیشہ کے لئے اس عورت کا نکاح حرام ہو چاہے نسب کی وجہ سے نکاح حرام ہو جیسے بیٹا باپ بھائی وغیرہ یا سسرال کے رشتہ سے نکاح حرام ہو جیسے خسر یا شوہر کا بیٹا۔ عورت شوہر یا محرم جس کے ساتھ سفر کر سکتی ہے اس کا عاقل بالغ غیر فاسق ہونا شرط ہے(۳)حج کو جانے کے زمانہ میں عورت عدت میں نہ ہو چاہے وفات کی عدت ہو یا طلاق کی (۴)قید میں نہ ہو