Brailvi Books

جنتی زیور
362 - 676
شرطیں نہ پائی جائیں تو خود حج کو جانا ضروری نہیں بلکہ دوسرے سے حج کرا سکتا ہے یا وصیت کر جائے مگر اس میں یہ بھی ضرور ہے کہ حج کرانے کے بعد آخر عمر تک خود قادر نہ ہو ورنہ خود بھی حج کرنا ضروری ہوگا وہ شرطیں یہ ہیں (۱)راستہ میں امن وامان ہونا یعنی اگر غالب گمان سلامتی کا ہو تو حج کے لئے جانا ضروری ہے اور غالب گمان یہ ہو کہ ڈاکہ یا لڑائی کی وجہ سے جان ضائع ہو جائے گی تو حج کے لئے جانا ضروری نہیں (۲)عورت کو مکہ تک جانے میں تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو تو اس کے ہمراہ شوہر یا محرم کا ہونا شرط ہے خواہ وہ عورت جوان ہو یا بڑھیا اور اگر تین دن سے کم کا راستہ ہو تو عورت بغیر شوہر اور محرم کے بھی جاسکتی ہے مگرمحرم سے مراد وہ مرد ہے کہ جس سے ہمیشہ کے لئے اس عورت کا نکاح حرام ہو چاہے نسب کی وجہ سے نکاح حرام ہو جیسے بیٹا باپ بھائی وغیرہ یا سسرال کے رشتہ سے نکاح حرام ہو جیسے خسر یا شوہر کا بیٹا۔ عورت شوہر یا محرم جس کے ساتھ سفر کر سکتی ہے اس کا عاقل بالغ غیر فاسق ہونا شرط ہے(۳)حج کو جانے کے زمانہ میں عورت عدت میں نہ ہو چاہے وفات کی عدت ہو یا طلاق کی (۴)قید میں نہ ہو
    (الفتاوی الھندیۃ،کتاب المناسک،الباب الاول،ج۱،ص۲۱۸۔۲۱۹)
صحت ادا کی شرطیں:۔صحت ادا کی نو شرطیں ہیں کہ اگر یہ نہ پائی جائیں تو حج صحیح نہیں ہوگا وہ شرائط یہ ہیں (۱)مسلمان ہونا(۲)احرام ،بغیر احرام کے حج نہیں ہو سکتا(۳)حج کا وقت یعنی حج کے لئے جو وقت شریعت کی طرف سے معین ہے اس سے قبل حج کے افعال نہیں ہو سکتے (۴)افعال حج کی جگہوں پر افعال حج کرنا مثلاً طواف کی جگہ مسجد حرام ہے وقوف کی جگہ میدان عرفات و مزدلفہ ہے کنکری مارنے کی جگہ منیٰ ہے اگر یہ کام دوسری جگہ کریگا تو حج صحیح نہیں ہو گا (۵)تمیز کرنا اتنا چھوٹا بچہ کہ جس میں کسی چیز
Flag Counter