| جنتی زیور |
سونا چاہے تو اس کو چاہے کہ اعتکاف مستحب کی نیت کر کے مسجد میں داخل ہو اور نماز پڑھے یا ذکر الہٰی کرے پھر اس کے لئے کھانے پینے اور سونے کی بھی اجازت ہے۔
(الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الصیام، باب الاعتکاف،ج۳،ص۵۰۶)
مسئلہ:۔اعتکاف کرنے والا بالکل ہی چپ نہ رہے نہ بہت زیادہ لوگوں سے بات چیت کرے بلکہ اس کو چاہے کہ نفل نمازیں پڑھے' تلاوت کرے' علم دین کا درس دے' اولیاء و صالحین کے حالات سنے اور دوسروں کو سنائے' کثرت سے درود شریف پڑھے اور ذکر الہٰی کرے اور اکثر باوضو رہے اور دنیا داری کے خیالات سے دل کو پاک صاف رکھے اور بکثرت رو رو کر اور گڑ گڑا کر خدا سے دعائیں مانگے۔
حج کا بیان
حج ۹ھ میں فرض ہوا نماز و زکوٰۃ اور روزہ کی طرح حج بھی اسلام کا ایک رکن ہے اس کا فرض ہونا قطعی اور یقینی ہے جو اس کی فرضیت کا انکار کرے وہ کافر ہے اور اس کی ادائیگی میں تاخیر کرنے والا گنہگار اور اس کا ترک کرنے والا فاسق اور عذاب جہنم کا سزاوار ہے۔ اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:
وَاَتِمُّواالْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَلِلہِ۔
یعنی حج و عمرہ کو اﷲ کے لئے پورا کرو۔ (پ2،البقرۃ:196)
احادیث میں حج و عمرہ کے فضائل اور اجر و ثواب کے بارے میں بڑی بڑی بشارتیں آئی ہیں مگر حج عمر میں صرف ایک بار ہی فرض ہے۔
حدیث:۔ایک حدیث میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے حج کیا اورحج کے درمیان رفث (فحش کلام) اور فسق نہ کیا تو وہ اس طرح گناہوں سے پاک