| جنتی زیور |
پائے گا نیت میں صرف اتنا دل میں خیال کر لینا اور منہ سے کہہ لینا کافی ہے کہ میں نے خدا کے لئے اعتکاف مستحب کی نیت کی۔ مسئلہ:۔مرد کے لئے ضروری ہے کہ مسجد میں اعتکاف کرے اور عورت اپنے گھر میں اس جگہ اعتکاف کرے گی جو جگہ اس نے نماز پڑھنے کے لئے مقرر کی ہو ۔
(الد رالمختار،کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳،ص۴۹۳۔۴۹۴)
مسئلہ:۔ اعتکاف کرنے والے کے لئے بلا عذر مسجد سے نکلنا حرام ہے اگر نکلا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا چاہے قصداً نکلا ہو یا بھول کر اسی طرح عورت نے جس مکان میں اعتکاف کیا ہے اس کو اس گھر سے باہر نکلنا حرام ہے اگر عورت اس مکان سے باہر نکل گئی تو خواہ وہ قصداً نکلی ہو یا بھول کر اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا ۔
(الد رالمختار،کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳،ص۵۰۰۔۵۰۳)
مسئلہ:۔اعتکاف کرنے والا صرف دو عذروں کی وجہ سے مسجد سے باہر نکل سکتا ہے ایک عذر طبعی جیسے پیشاب پاخانہ اور غسل فرض و وضو کے لئے دوسرے عذر شرعی جیسے نماز جمعہ کے لئے جانا ان عذروں کے سوا کسی اور وجہ سے اگر چہ ایک ہی منٹ کے لئے ہو مسجد سے اگر نکلا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا اگرچہ بھول کر ہی نکلے ۔
(الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الصیام، باب الاعتکاف،ج۳،ص۵۰۱،۵۰۳)
مسئلہ:۔اعتکاف کرنے والا دن رات مسجد ہی میں رہے گا وہیں کھائے پئے سوئے مگر یہ احتیاط رکھے کہ کھانے پینے سے مسجد گندی نہ ہونے پائے معتکف کے سوا کسی اور کو مسجد میں کھانے پینے اور سونے کی اجازت نہیں ہے اس لئے اگر کوئی آدمی مسجد میں کھانا پینا اور