| جنتی زیور |
مسئلہ:۔کسی نے اکیلے رمضان یا عید کا چاند دیکھا اور گواہی دی مگر قاضی نے اس کی گواہی قبول نہیں کی تو خود اس شخص پر روزہ رکھنا لازم ہے اگر نہ رکھا یا تور ڈالا تو قضا لازم ۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الثانی فی رؤیۃ الھلال،ج۱،ص۱۹۸)
مسئلہ:۔اگر دن میں چاند دکھائی دیا دوپہر سے پہلے چاہے دوپہر کے بعد بہر حال وہ آنے والی رات کا چاند مانا جائے گا یعنی اب جو رات آئے گی اس سے مہینہ شروع ہوگا مثلاً تیس رمضان کو دن میں چاند نظر آیا تو یہ دن رمضان ہی کا ہے شوال کے نہیں اور روزہ پورا کرنا فرض ہے اور اگر شعبان کی تیسویں تاریخ کو دن میں چاند نظر آگیا تو یہ دن شعبان ہی کا ہے رمضان کا نہیں لہٰذا آج کا روزہ فرض نہیں ۔
(ردالمحتار،کتاب الصوم،مطلب فی رؤیۃ الھلال نھارًا،ج۳،ص۴۱۶)
مسئلہ:۔تار' ٹیلیفون' ریڈیو سے چاند دیکھنا ثابت نہیں ہو سکتا اس لئے اگر ان خبروں کو ہر طرح سے صحیح مان لیا جائے جب بھی یہ محض ایک خبر ہے یہ شہادت نہیں ہے اور محض ایک خبر سے چاند کا ثبوت نہیں ہوتا اور اسی طرح بازاری افواہوں سے اور جنتریوں اور اخباروں میں چھپنے سے بھی چاند نہیں ہو سکتا۔
(بہارشریعت،ج۱،ح۵،ص۱۱۲)
مسئلہ:۔چاند دیکھ کر اس کی جانب انگلی سے اشارہ کرنا مکروہ ہے اگر چہ دوسروں کو بتانے کیلئے ہو۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الثانی فی رؤیۃ الھلال،ج۱،ص۱۹۷)
روزہ توڑنے والی چیزیں
کھانے پینے سے یا جماع کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے جب کہ روزہ دار ہونا یاد ہو اور اگر روزہ دار ہونا یاد نہ رہا اور بھول کر کھا پی لیا یا جماع کر لیا تو روزہ نہیں ٹوٹا ۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد۔۔۔الخ النوع الاول،ج۱،ص۲۰۲)