مسئلہ:۔نتھنوں میں دوا چڑھائی یا کان میں تیل ڈالا یا تیل چلا گیا تو روزہ ٹوٹ گیا اور اگر پانی کان میں ڈالا یا چلا گیاتو روزہ نہیں ٹوٹا۔جدید تحقیق کے مطابق کان میں منفذنہ ہونے کا بناء پر روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد۔۔۔الخ ،ج۱،ص۲۰۴)
مسئلہ:۔کلی کرنے میں بلا قصد پانی حلق سے نیچے چلا گیا یا ناک میں پانی چڑھا رہاتھا بلا قصد پانی دماغ میں چڑھ گیا تو روزہ ٹوٹ گیا۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد۔۔۔الخ ،ج۱،ص۲۰۲)
مسئلہ:۔دوسرے کا تھوک نگل گیا یا اپنا ہی تھوک ہاتھ پر رکھ کر نگل گیا تو روزہ جاتا رہا۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد۔۔۔الخ ،ج۱،ص۲۰۳)
مسئلہ:۔قصداً منہ بھر کر قے کی اور روزہ دار ہونا یاد ہے تو روزہ ٹوٹ گیا اور اگر منہ بھر سے کم کی تو روزہ نہیں ٹوٹا۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد۔۔۔الخ ،ج۱،ص۲۰۴)
مسئلہ:۔بلا قصد اور بے اختیار قے ہوگئی تو روزہ نہیں ٹوٹا تھوڑی قے ہو یا زیادہ روزہ دار ہونا یاد ہو یا نہ ہو بہر حال روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الرابع فیما یفسد۔۔۔الخ ،ج۱،ص۲۰۴)
مسئلہ:۔منہ میں رنگین دھاگہ یا کوئی رنگین چیز رکھی جس سے تھوک رنگین ہوگیا پھر اس