| جنتی زیور |
مسئلہ:۔گاؤں میں چاند دیکھا اور وہاں کوئی حاکم یا قاضی نہیں جس کے سامنے گواہی دے تو گاؤں والوں کو جمع کرکے ان کے سامنے چاند دیکھنے کی گواہی دے اگر یہ گواہی دینے والا عادل ہے لوگوں پر روزہ رکھنا لازم ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الثانی فی رؤیۃ الھلال،ج۱،ص۱۹۷)
مطلع اگر صاف ہو:۔تو جب تک بہت سے لوگ شہادت نہ دیں چاند کا ثبوت نہ ہوگا (چاہے رمضان کا چاند ہو یا عید کا یا کسی اور مہینے کا) رہا یہ کہ کتنے لوگوں کی گواہی اس صورت میں چاہے تو یہ قاضی کی رائے پر ہے جتنے گواہوں سے اسے غالب گمان ہو جائے اتنے گواہوں کی شہادت سے چاند ہونے کا حکم دیگا لیکن اگر شہر کے باہر کسی اونچی جگہ سے چاند دیکھنا بیان کرے تو ایک مستور کا بھی قول صرف رمضان کے چاند میں مان لیا جائیگا ۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الثانی فی رؤیۃ الھلال،ج۱،ص۱۹۸)
مسئلہ:۔اگر کچھ لوگ آکر یہ کہیں کہ فلاں جگہ چاند ہوا بلکہ اگر یہ شہادت دیں کہ فلاں فلاں نے دیکھا بلکہ اگر یہ شہادت دیں کہ فلاں جگہ کے قاضی نے روزہ یا افطار کے لئے لوگوں سے کہا یہ سب طریقے چاند کے ثبوت کے لئے ناکافی ہیں اور اس قسم کی شہادتوں سے چاند کا ثبوت نہ ہو سکے گا۔
(ردالمحتارمع الدرالمختار،کتاب الصوم،مطلب ماقالہ السبکی من الاعتماد،ج۳،ص۴۱۳)
مسئلہ:۔کسی شہر میں چاند ہو ا اور وہاں سے چند جماعتیں دوسرے شہر میں آئیں اور سب نے خبر دی کہ وہاں فلاں دن چاند ہوا ہے اور تمام شہر میں یہ بات مشہور ہے اور وہاں کے لوگوں نے چاند نظر آنے کی بنا پر فلاں دن سے روزے شروع کر دئیے ہیں تو یہاں والوں کے لئے بھی ثبوت ہو گیا۔
(ردالمحتار مع الدرالمختار،کتاب الصوم،مطلب ماقالہ السبکی من الاعتماد۔۔۔الخ،ج۳،ص۴۱۳)