(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الثانی فی رؤیۃ الھلال،ج۱،ص۱۹۷)
مطلع صاف نہ ہونے میں یعنی آسمان میں ابر وغبار ہونے کی حالت میں صرف رمضان کے چاند کا ثبوت ایک مسلمان عاقل و بالغ مستور یا عادل کی گواہی یا خبر سے ہو جاتا ہے چاہے مرد ہو یا عورت اور رمضان کے سوا تمام مہینوں کا چاند اس وقت ثابت ہوگا جب دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں اور سب پابند شرع ہوں اور یہ کہیں کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اس مہینے کا چاند فلاں دن خود دیکھا ہے۔
(الدرالمختار،کتاب الصوم، ج۳،ص۴۰۶)
عادل:۔ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو اور صغیرہ گناہوں پر اصرار نہ کرتا ہو اور ایسا کام نہ کرتا ہو جو تہذیب و مروت کے خلاف ہو جیسے بازاروں میں سڑکوں پر چلتے پھرتے کھانا پینا۔
مستور:۔سے یہ مراد ہے کہ جس کا ظاہر حال شرع کے مطابق ہو مگر باطن کا حال معلوم نہیں۔
(ردالمحتار مع الدرالمختار،کتاب الصوم،مبحث فی یوم شک ، ج۳،ص۴۰۶)
مسئلہ:۔جس عادل شخص نے چاند دیکھا ہے اس پر واجب ہے کہ اسی رات میں شہادت دے۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الثانی فی رؤیۃ الھلال،ج۱،ص۱۹۷)