حدیث (۵):۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک زنا کار عورت ایک کتے کے پاس سے گزری جو ایک کنوئیں کے پاس پیاس سے زبان نکالے ہوئے تھا اور قریب تھا کہ پیاس اس کتے کو مار ڈالے تو اس عورت نے اپنے چمڑے کا موزہ نکالا اور اسکو اپنی اوڑھنی میں باندھ کر اس کنوئیں سے پانی بھرا اور اس کتے کو پلادیا (تواتنا ہی صدقہ کرنے سے) اس کی مغفرت ہوگئی ۔
(صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق ، باب اذا وقع الذباب فی شراب احدکم فلیغمسہ، رقم ۳۳۲۱،ج۲،ص۴۰۹)
حدیث (۶):۔حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! میری ماں کی وفات ہوگئی تو اس کی طرف سے کون سا صدقہ افضل ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ ''پانی'' تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک کنواں کھدوا دیا اور یہ کہا کہ یہ سعد کی ماں کے لئے ہے۔