سوال کسے حلال ہے اور کسے نہیں؟
آج کل یہ ایک عام بلا پھیلی ہوئی ہے کہ اچھے خاصے تندرست چاہیں تو کما کر اوروں کو کھلائیں مگر انہوں نے اپنے وجود کو بیکار قرار دے رکھا ہے۔ محنت مشقت سے جان چراتے ہیں اور ناجائز طور پر بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے ہیں اور بہت سے لوگوں نے تو سوال کرنا اور بھیک مانگنا اپنا پیشہ ہی بنا رکھا ہے۔ گھر میں ہزاروں روپے ہیں کھیتی باڑی بھی ہے مگر بھیک مانگنا نہیں چھوڑتے۔ ان سے کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ یہ تو ہمارا پیشہ ہے واہ صاحب واہ! کیا ہم اپنا پیشہ چھوڑ دیں حالانکہ ایسے لوگوں کو سوال کرنا اور بھیک مانگنا بالکل حرام ہے حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص بغیر حاجت کے سوال کرتا ہے گویا وہ آگ کا انگارا کھاتا ہے۔
(مجمع الزاوائد،کتاب الزکاۃ، باب ماجاء فی السوال، رقم ۴۵۲۶،ج۳،ص۲۵۸)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں سے سوال کرے حالانکہ اس کو نہ فاقہ ہوا ہے نہ اس کے اتنے بال بچے ہیں جن کی طاقت نہیں رکھتا تو قیامت کے دن وہ اس طرح آئے گا کہ اس کے منہ پر گوشت نہ ہو گا اور