Brailvi Books

جنتی زیور
341 - 676
ہو جائے اور پھر ان رقموں کو مدرسہ کی جس مد میں چاہیں خرچ کر سکیں۔

مسئلہ:۔حیلہ شرعیہ کا طریقہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقموں کو الگ کر کے کسی طالب علم کو جو غریب ہو دے دیں اور ان رقموں کا اس طالب علم کو مالک بنا دیا جائے اور پھر وہ طالب علم اپنی طرف سے وہ رقم مدرسہ میں اپنی خوشی سے دے دے اس طرح کر لینے سے زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی اور پھر وہ رقم مدرسہ کی ہر مد میں خرچ کی جاسکے گی۔
               (الفتاوی الرضویۃ(الجدیدۃ)،ج۱۰،ص۲۶۹)
مسئلہ:۔زکوٰۃ و صدقات میں افضل یہ ہے کہ پہلے اپنے بھائیوں' بہنوں' چچاؤں' پھوپھیوں کو پھر ان کی اولاد کو پھر اپنے ماموؤں اور خالاؤں کو پھر ان کی اولاد کو پھر دوسرے رشتہ داروں کو پھر پڑوسیوں کو پھر اپنے پیشہ والوں کو پھر اپنے شہر اور گاؤں والوں کو دیں اور علم دین حاصل کرنے والے طالب علموں کو بھی دینا افضل ہے۔
    (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف، ج۱،ص۱۹۰)
صدقہ فطر کا بیان
مسئلہ:۔ہر مالکِ نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے ایک ایک صاع صدقہ فطر دینا واجب ہے۔
            (الدرالمختار،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۳۶۷)
مسئلہ:۔صدقہ فطر کی مقدار یہ ہے کہ گیہوں اور گیہوں کا آٹا آدھا صاع اور جو یا جو کا آٹایا کھجور ایک صاع دیں ۔
    (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر،ج۱،ص۱۹۱)
مسئلہ:۔اعلیٰ درجے کی تحقیق اور احتیاط یہ ہے کہ صاع کا وزن چاندی کے پرانے روپے سے تین سو اکیاون روپے بھر اور آدھا صاع کا وزن ایک سو پچھتّر روپے اٹھنی بھر اوپر
Flag Counter