مسئلہ:۔فقیر زکوٰۃ کے مال کا مالک ہو جانے کے بعد خود اپنی طرف سے اگر مسجد و مدرسہ کی عمارت میں لگا دے یا میت کے کفن ودفن میں صرف کردے تو جائز ہے۔
(الدرالمختار،کتاب الزکاۃ، باب المصرف،ج۳،ص۳۴۳)
قابل توجہ تنبیہ:۔آج کل عام طور پر دینی مدارس میں یہ چلن ہے کہ عطیات اور صدقات و خیرات و چرم قربانی اور زکوٰۃ کی سب رقمیں متولی یا ناظم کے پاس جمع کی جاتی ہیں اور ناظم و متولی ان سب رقموں کو ملا کر رکھتے ہیں اور اسی رقم میں سے طلبہ کا مطبخ بھی چلاتے ہیں اور مدرسین و ملازمین کی تنخواہیں بھی دیتے ہیں اور واعظین و ممتحنین کا نذرانہ بھی دیتے ہیں اور مسجد و مدرسہ کی عمارت بھی بنواتے ہیں اور اپنے مصارف میں بھی لاتے ہیں یاد رکھو کہ اس طرح نہ تو زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا ہوتی ہے نہ ان کاموں میں زکوٰۃ کی رقموں کو لگانا جائز ہے اور یہ متولیوں اور ناظموں کی بہت بڑی خیانت ہے کہ وہ لوگوں کی زکوٰۃ کے مالوں کو صحیح مصرف میں صرف نہیں کرتے اور گنہ گار ہوتے ہیں لہٰذا علماء کرام پر شرعاً واجب ہے کہ متولیوں اور ناظموں کو یہ مسئلہ بتادیں کہ مدارس میں جتنی رقمیں زکوٰۃ کی آتی ہیں پہلے ان رقموں کا حیلہ شرعیہ کر لینا ضروری ہے تاکہ زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا