(۳)اپنی اصل و فروع یعنی ماں باپ' دادا دادی' نانا نانی وغیرہم اور بیٹا' بیٹی' پوتا' پوتی' نواسہ' نواسی کو زکوٰۃ کا مال دینا جائز نہیں (۴)شوہر اپنی عورت کو اور عورت اپنے شوہر کو اپنی زکوٰۃ نہیں دے سکتے یوں ہی صدقہ فطر اور کفارہ بھی ان لوگوں کو نہیں دے سکتا (۵)مالدار کے نابالغ بچے کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی اور مالدار کی بالغ او لاد جب کہ وہ نصاب کے مالک نہ ہوں ان کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں (۶)کسی کافر و مرتد یا بدمذہب کو زکوٰۃ کامال دینا جائز نہیں۔
(الجوھرۃ النیرۃ، کتاب الزکاۃ، باب من یجوز دفع الصدقۃ۔۔۔الخ،ص۱۶۶۔۱۶۷)
مسئلہ:۔بہو داماد اور سوتیلی ماں یا سوتیلے باپ یا زوجہ کی اولاد جو دوسرے شوہر سے ہوں یا شوہر کی اولا جو دوسری بیوی سے ہوں اور دوسرے رشتہ داروں کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔
(ردالمحتار،کتاب الزکوۃ،باب المصرف،ج۳،ص۳۴۴)
مسئلہ:۔مالدار کی بیوی اگر وہ مالک نصاب نہیں ہے تو اس کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ،الباب السابع فی المصارف،ج۱،ص۱۸۹)
مسئلہ:۔تندرست اور طاقت ور آدمی اگر وہ مالک نصاب نہیں ہے تو اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے مگر اس کو سوال کرنا اور بھیک مانگنا جائز نہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ،الباب السابع فی المصارف،ج۱،ص۱۸۹)
مسئلہ:۔زکوٰۃ ادا کرنے میں یہ ضروری ہے کہ جسے دیں اس کو مالک بنا دیں اس لئے اگر زکوٰۃ کی رقم سے کھانا پکا کر غریبوں کو بطور دعوت کے کھلا دیا تو زکوٰۃ ادا نہ ہوئی کیونکہ یہ اباحت ہوئی تملیک نہیں ہوئی ہاں اگر کھانا پکا کر فقیروں کو کھانا دے دے اور ان کو اس کھانے کا مالک بنادے کہ وہ چاہیں اس کو کھائیں یا کسی کو دے دیں یا بیچ ڈالیں تو زکوٰۃ ادا