Brailvi Books

جنتی زیور
338 - 676
       (الدرالمختار،کتاب الزکاۃ،باب فی العشر،ج۳،ص۳۱۶۔۳۱۷)
مسئلہ:۔زمین اگر بٹائی پردے کر کھیتی کرائی ہے تو زمین والے اور کھیتی کرنے والے دونوں کو جتنی جتنی پیداوار ملی ہے دونوں کو اپنے اپنے حصہ کی پیداوار کا دسواں یا بیسواں حصہ نکالنا واجب ہے۔
     (الفتاوی الخانیۃ(اولین)،کتاب الزکاۃ،فصل فی العشر،ج ۱،ص۱۳۲)
زکوٰۃ کا مال کن کن لوگوں کو دیا جائے
جن جن لوگوں کو عشر و زکوٰۃ کامال دینا جائز ہے وہ یہ لوگ ہیں:۔

(۱)فقیر یعنی وہ شخص کہ اس کے پاس کچھ مال ہے مگر نصاب کی مقدار سے کم ہے (۲)مسکین یعنی وہ شخص جس کے پاس کھانے کے لئے غلہ اور پہننے کے لئے کپڑا بھی نہ ہو (۳)قرض دار یعنی وہ شخص کہ جس کے ذمہ قرض ہو اور اس کے پاس قرض سے فاضل کوئی مال بقدر نصاب نہ ہو (۴)مسافر جس کے پاس سفر کی حالت میں مال نہ رہا ہو اس کو بقدر ضرورت زکوٰۃ کا مال دینا جائز ہے(۵)عامل یعنی جس کو بادشاہ اسلام نے زکوٰۃ و عشر وصول کرنے کے لئے مقرر کیا ہو(۶)مکاتب غلام تاکہ وہ مال دے کر آزاد ہو جائے(۷)غریب مجاہد تاکہ وہ جہاد کا سامان کرے۔
 (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ،الباب السابع فی المصارف،ج۱،ص۱۸۷۔۱۸۸)
کن کن لوگوں کو زکوٰۃ کا مال دینا منع ہے
جن لوگوں کو عشر و زکوٰۃ کا مال دینا جائز نہیں ان میں سے چند یہ ہیں:۔

(۱)مالدار یعنی صاحب نصاب جس پر خود زکوٰۃ فرض ہے اس کو زکوٰۃ کا مال جائز نہیں (۲)بنی ہاشم یعنی حضرت علی' حضرت جعفر' حضرت عقیل' حضرت عباس' حارث بن
Flag Counter