Brailvi Books

جنتی زیور
337 - 676
مسئلہ:۔اگر سونا چاندی نہ ہو نہ مال تجارت ہو بلکہ صرف نوٹ اور روپے پیسے ہوں کہ کم سے کم اتنے روپے پیسے یا نوٹ ہوں کہ بازار میں ان سے ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی خریدی جاسکتی ہے تو وہ شخص صاحب نصاب ہے اس کو نوٹ اور روپے پیسوں کی زکوٰۃ' چالیسواں حصہ نکالنا فرض ہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الزکاۃ، البا ب الثالث،الفصل الاول فی زکاۃ الذھب والفضۃ،ج۱،ص۱۷۹)
مسئلہ:۔اگر شروع سال میں پورا نصاب تھا اور آخر سال میں بھی نصاب پورا رہا درمیان میں کچھ دنوں مال گھٹ کر نصاب سے کم رہ گیا تو یہ کمی کچھ اثر نہ کرے گی بلکہ اس کو پورے مال کی زکوٰۃ دینی پڑے گی۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الزکاۃ، البا ب الاول فی تفسیرھاوصفتھاوشرائطھا،ج۱،ص۱۷۵)
عُشر کا بیان
    زمین سے جو بھی پیداوار ہو گیہوں' جو'چنا' باجرا' دھان وغیرہ ہر قسم کے اناج' گنا' روئی ہر قسم کی ترکاریاں پھول پھل میوے سب میں عشر واجب ہے تھوڑی پیدا ہو یا زیادہ۔
(الفتاوی الخانیۃ(اولین)، کتاب الزکاۃ،فصل فی العشر،ج ۱،ص۱۳۲)
مسئلہ:۔جو پیداوار بارش یا زمین کی نمی سے پیدا ہو اس میں دسواں حصہ واجب ہوتا ہے اور جو پیداوار چر سے ' ڈول' پمپنگ مشین یا ٹیوب ویل وغیرہ کے پانی سے یا خریدے ہوئے پانی سے پیدا ہو اس میں بیسواں حصہ واجب ہے۔
        (الدرالمختار،کتاب الزکاۃ،باب العشر،ج۳،ص۳۱۲،۳۱۶)
مسئلہ:۔کھیتی کے اخراجات نکال کر عشر نہیں نکالا جائے گا بلکہ جو کچھ پیداوار ہوئی ہو ان سب کا عشر یا نصف عشر دینا واجب ہے گورنمنٹ کو مال گزاری دی جاتی ہے وہ بھی عشر کی رقم سے مجرا نہیں کی جائے گی پوری پیداوار کا عشر یا نصف عشر خدا کی راہ میں نکالنا پڑے گا۔
Flag Counter