مسئلہ:۔جن زیورات کی مالک عورت ہو خواہ وہ مَیکا سے لائی ہو یا اس کے شوہر نے اس کو زیورات دے کر ان کا مالک بنادیا ہو تو ان کی زکوٰۃ ادا کرنا عورت پر فرض ہے اور جب زیورات کا مالک مرد ہو یعنی عورت کو صرف پہننے کے لئے دیا ہے مالک نہیں بنایا ہے تو ان زیورات کی زکوٰۃ مرد کے ذمہ ہے عورت پر نہیں۔
(الفتاوی الرضویۃ،(الجدیدۃ)ج۱۰،ص۱۳۲)
مسئلہ:۔اگر کسی کے پاس سونا چاندی یا ان دونوں کے زیورات ہوں اور سونا چاندی میں سے کوئی بھی بقدر نصاب نہیں تو چاہے کہ سونے کی قیمت کے چاندی یا چاندی کی قیمت کا سونا فرض کرکے دونوں کو ملائیں پھر اگر ملانے پر بھی بقدر نصاب نہ ہو تو زکوٰۃ نہیں اور اگر سونے کی قیمت کی چاندی چاندی میں ملائیں تو بقدر نصاب ہو جاتا ہے اور چاندی کی قیمت کا سونا سونے میں ملائیں تو بقدر نصاب نہیں تو واجب ہے کہ جس صورت میں نصاب پورا ہو جاتا ہے وہ کریں۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الزکاۃ، البا ب الثالث،الفصل الاول فی زکاۃ الذھب والفضۃ،ج۱،ص۱۷۹)
مسئلہ:۔تجارتی مال کی قیمت لگائی جائے پھر اس سے اگر سونے یا چاندی کا نصاب پورا ہو تو اس کے حساب سے زکوٰۃ نکالی جائے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الزکاۃ، البا ب الثالث،الفصل الاول فی زکاۃ الذھب والفضۃ،ج۱،ص۱۷۹)