Brailvi Books

جنتی زیور
335 - 676
کرنے میں جن چیزوں کی ضرورت ہے مثلاً اپنے رہنے کا مکان' جاڑے گرمیوں کے کپڑے' گھریلو سامان یعنی کھانے پینے کے برتن' چارپائیاں' کرسیاں' میزیں' چولہے' پنکھے وغیرہ ان مالوں میں زکوٰۃ نہیں کیونکہ یہ سب مال و ساما ن حاجت اصلیہ سے فارغ نہیں ہے(۹)مال نامی ہونا یعنی بڑھنے والا مال ہوناخواہ حقیقتہ بڑھنے والا مال جیسے مال تجارت اور چرائی پر چھوڑے ہوئے جانور یا حکماً بڑھنے والا مال ہو جیسے سونا چاندی کہ یہ اسی لئے پیدا کئے گئے ہیں کہ ان سے چیزیں خریدی جائیں اور بیچی جائیں تاکہ نفع ہونے سے یہ بڑھتے رہیں لہٰذا سونا چاندی جس حال میں بھی ہو زیور کی شکل میں ہوں یا دفن ہوں ہر حال میں یہ مال نامی ہیں اور ان کی زکوٰۃ نکالنی ضروری ہے(۱۰)مال نصاب پر ایک سال گزر جانا یعنی نصاب پورا ہوتے ہی زکوٰۃ فرض نہیں ہوگی بلکہ ایک سال تک وہ نصاب ملک میں باقی رہے تو سال پورا ہونے کے بعد اس کی زکوٰۃ نکالی جائے۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الزکاۃ، البا ب الاول فی تفسیرھا وصفتھا وشرائطھا،ج۱،ص۱۷۱۔۱۷۴)
مسئلہ:۔سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے اور چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ ہے سونے چاندی میں چالیسواں حصہ زکوٰۃ نکال کر ادا کرنا فرض ہے یہ ضروری نہیں کہ سونے کی زکوٰۃ میں سونا ہی اور چاندی کی زکوٰۃ میں چاندی ہی دی جائے بلکہ یہ بھی جائز ہے کہ بازاری بھاؤ سے سونے چاندی کی قیمت لگا کر روپیہ زکوٰۃ میں دیں۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الزکاۃ، البا ب الثالث،الفصل الاول فی زکاۃ الذھب والفضۃ،ج۱،ص۱۷۸)
زیورات کی زکوٰۃ:۔حدیث شریف میں ہے کہ دو عورتیں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت مبارکہ میں حاضر ہوئیں ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے آپ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم ان زیوروں کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ عورتوں نے عرض کیا کہ جی نہیں! تو  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم اسے پسند کرتی ہو کہ اﷲتعالیٰ تمہیں آگ
Flag Counter