Brailvi Books

جنتی زیور
334 - 676
زکوٰۃ کا بیان
    زکوٰۃ فرض ہے اس کا انکار کرنے والا کافر اور نہ دینے والا فاسق و جہنمی اور ادا کرنے میں دیر کرنے والا گنہگار و مردود الشہادۃ ہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الزکاۃ، البا ب الاول فی تفسیرھا وصفتھا وشرائطھا،ج۱،ص۱۷۰)
نماز کی طرح اس کے بارے میں بھی بہت سی آیتیں و حدیثیں آئی ہیں جن میں زکوٰۃ ادا کرنے کی سخت تاکید ہے اور نہ ادا کرنے والے پر طرح طرح کے دنیا اور آخرت کے عذابوں کی و عیدیں آئی ہیں۔

مسئلہ:۔اﷲ کے لئے مال کا ایک حصہ جو شریعت نے مقرر کیا ہے کسی فقیر کو مالک بنا دینا شریعت میں اس کو زکوٰۃ کہتے ہیں۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الزکاۃ، البا ب الاول فی تفسیرھا وصفتھا وشرائطھا،ج۱،ص۱۷۰)
مسئلہ:۔زکوٰۃ فرض ہونے کے لئے چند شرطیں ہیں :۔

(۱)مسلمان ہونا یعنی کافر پر زکوٰۃ فرض نہیں(۲)بالغ ہونا یعنی نابالغ پر زکوٰۃ فرض نہیں (۳)عاقل ہونا یعنی دیوانے پر زکوٰۃ فرض نہیں(۴)آزاد ہونا یعنی لونڈی غلام پر زکوٰۃ فرض نہیں (۵)مالک نصاب ہونا یعنی جس کے پاس نصاب سے کم مال ہو اس پر زکوٰۃ فرض نہیں (۶)پورے طور پر مالک ہو یعنی اس پر قبضہ بھی ہو تب زکوٰۃ فرض ہے ورنہ نہیں مثلاً کسی نے اپنا مال زمین میں دفن کر دیا اور جگہ بھول گیا پھر برسوں کے بعد جگہ یاد آئی اور مال مل گیا تو جب تک مال نہ ملا تھا اس زمانہ کی زکوٰۃ واجب نہیں کیونکہ نصاب کا مالک تو تھا مگر اس پر قبضہ نہیں تھا (۷)نصاب کا قرض سے فارغ ہونا اگر کسی کے پاس ایک ہزار روپیہ ہے مگر وہ ایک ہزار کا قرض دار بھی ہے تو اس کا مال قرض سے فارغ نہیں لہٰذا اس پر زکوٰۃ نہیں۔(۸)نصاب کا حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہونا حاجت اصلیہ یعنی آدمی کو زندگی بسر
Flag Counter