| جنتی زیور |
دور دراز سے سفر کر کے جانا یقیناً جائز ہے اولیاء اپنے زیارت کرنے والوں کو اپنے رب کی دی ہوئی طاقتوں سے نفع پہنچاتے ہیں اور اگر مزاروں پر کوئی خلاف شرع بات ہو جیسے عورتوں کا سامنا یا گانا بجانا وغیرہ تو اس کی وجہ سے زیارت نہ چھوڑی جائے کہ ایسی باتوں سے نیک کام چھوڑا نہیں جاتا بلکہ خلاف شرع باتوں کو برا جانے اور ہوسکے تو بری باتوں سے لوگوں کو منع کرے اور بری باتوں کو اپنی طاقت بھر روکے۔
(ردالمحتار،کتاب الصلٰوۃ،مطلب فی زیارۃ القبور،ج۳،ص۱۷۷)
مسئلہ:۔قبروں کی زیارت کا یہ طریقہ ہے کہ قبر کی پائنتی کی طرف سے جاکر قبلہ کو پشت کر کے میت کے منہ کے سامنے کھڑا ہو اور یہ کہے کہ
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اَھْلَ دَارِ قَوْمٍ مُّؤمِنِیْنَ اَنْتُمْ لَنَا سَلَفٌ وَّاِنَّا اِنْ شَآءَ اللہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ ؕ
پھر فاتحہ پڑھے اور بیٹھنا چاہے تو اتنے فاصلہ پر بیٹھے کہ جتنی دور زندگی میں اس کے پاس بیٹھتا تھا۔
(الدرالمختارمع الردالمحتار ،کتاب الصلٰوۃ،باب صلٰوۃ الجنازۃ،ج۳،ص۱۷۹)
مسئلہ:۔حدیث میں ہے کہ جو گیارہ مرتبہ قُلْ ھُوَاﷲُ اَحَدٌ شریف پڑھ کر اس کا ثواب مردوں کی روح کو پہنچائے تو مردوں کی گنتی کے برابر اس کو ثواب ملے گا۔ مسئلہ:۔وہابی لوگ قبروں کی توہین کرتے ہیں قبروں کی زیارت اور فاتحہ سے منع کرتے ہیں ان لوگوں کی صحبت سے دور رہنا چاہے اور ہرگز ان لوگوں سے نہ میل جول رکھنا چاہے نہ ان کی باتوں کو ماننا چاہے یہ لوگ اہل سنت وجماعت کے خلاف ہیں۔ مسئلہ:۔علماء اور اولیاء کی قبروں پر قبہ بنانا جائز ہے مگر قبر کو پختہ نہ کیا جائے ۔
(ردالمحتار،کتاب الصلٰوۃ،مطلب فی دفن المیت ،ج۳،ص۱۶۹۔۱۷۰)
یعنی اندر سے پختہ نہ بنائی جائے اور اگر اندر قبر کچی ہو اور اوپر سے پختہ بنائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
(بہار شریعت،ج۱،ح۴،ص۱۶۲)