Brailvi Books

جنتی زیور
330 - 676
والنقل من مکان الی آخر، ج۱،ص۱۶۶)
مسئلہ:۔مستحب یہ ہے کہ دفن کے بعد قبر کے پاس سوره بقرہ کا اول و آخر پڑھیں سرہانے الۤمۤ سے مُفْلِحُوْنَ تک اور پائنتی آمَنَ الرَّسُوْلُ سے ختم سورت تک پڑھیں۔
        (ردالمحتار،کتاب الصلٰوۃ،مطلب فی زیارۃ القبور،ج۳،ص۱۷۹)
قبر پر تلقین
مسئلہ:۔دفن کے بعد مردہ کو تلقین کرنا اہل سنت کے نزدیک جائز ہے۔
             (الجوہرۃ النیرۃ، کتاب الصلاۃ،باب الجنائز،ص۱۳۰)
     یہ جو بعض کتابوں میں ہے کہ تلقین نہ کی جائے یہ معتزلہ کا مذہب ہے انہوں نے ہماری کتابوں میں یہ اضافہ کر دیا ہے (شامی) حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم فرماتے ہیں جب تمہارا کوئی مسلمان بھائی مرے اور اس کی مٹی دے چکو تو تم میں سے ایک شخص قبر کے سرہانے کھڑا ہو کر میت اور اس کی ماں کا نام لے کر یوں کہے یا فلان بن فلانہ وہ سنے گا اور جواب نہ دے گا پھر کہے یا فلان بن فلانہ وہ سیدھا ہوکر بیٹھ جائے گا پھر کہے یا فلان بن فلانہ وہ کہے گا ہمیں ارشاد کر اﷲتعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے مگر تمہیں اس کے کہنے کی خبر نہیں ہوتی پھر کہے۔
اُذْکُرْمَا خَرَجْتَ مِنَ الدُّنْیَا شَھَادَۃَ اَنْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) وَاَنَّکَ رَضِیْتَ بِاللہِ رَبّاً وَّبِا لْاِسْلَامِ دِیْناً وَّ بِمُحَمَّدٍ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) نَبِیّاً وَّ بِالْقُرْآنِ اِمَاماً ؕ
    نکیرین ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہیں گے چلو ہم اس کے پاس کیا بیٹھیں جسے لوگ اس کی حجت سکھا چکے اس پر کسی نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے عرض کی کہ اگر اس کی ماں کا نام معلوم نہ ہو فرمایا حوا کی طرف نسبت کرے۔
 (ردالمحتار،کتاب الصلٰوۃ،مطلب فی التلقین بعد الموت،ج۳،ص۹۴/ والمعجم الکبیر،
Flag Counter