مُسلمان عورتوں کی آزاد خیالی سے مُسلم معاشرہ کی تباہی و بدحالی دیکھ کر بَار بار دل کڑھتا اور جلتا تھا۔ اس لیے ایک مدّت سے یہ خیال تھا کہ مسلمان عورتوں کی صلاح و فلاح، اور ان کی بد اعتقادیوں اور بد اعمالیوں کی اصلاح کے لیے ایک کتاب لکھ دوں۔ مگر افسوس کہ کثرتِ کار و ہجوم افکار کے میدانِ محشر میں اس طرف توجہ کی فرصت ہی نہیں ملی۔ یہاں تک کہ میرے مخلِص مرید مولوی اعجاز حسین صَاحب قادری مالک اعجاز بک ڈپو ہوڑہ نے بڑی دل سوزی کے ساتھ میرے نام ایک خط میں تحریر کیا کہ ایک ایسی کتاب کی بے حد ضرورت ہے جومسلمان عورتوں کی دینی ودنیاوی ضرورتوں کے متعلق ضروری معلومات کی جامع ہوتاکہ وہ مُسلمان بچیوں کے تعلیمی کورس میں داخِل ہو سکے اور مسلمان لڑکیوں کو جہیز میں دی جا سکے۔ اس کے بعد میری تصانیف کے دوسرے قدر دانوں نے بھی زبانی اور قلمی طور پر تقاضوں کا ایسا طومار باندھ دیا کہ میں احباب کے اس مطالبہ کو نظر انداز نہ کر سکا۔ حد ہوگئی کہ سب سے آخر میں ضِلع بستی کے سیٹھ الحاج ملا محمد حنیف یا ر علوی جن کا بمبئی کے عِلم دوست و دیندار سیٹھوں میں شمار ہے۔ انہوں نے براؤں شریف میں میرے روبرو بیٹھ کر برجستہ یہ کہدیا کہ آپ نے ہمارے لڑکوں کے ہاتھوں میں دینے کے لیے تو بہت سی کتابیں لکھ دی ہیں لیکن ہماری لڑکیوں کے ہاتھوں میں دینے کے لیے آپ نے اب تک کچھ بھی نہیں لکھا یہ سن کر مجھے بے حد تأسف ہوا اور میں نے یہ عزم کر لیا کہ ان شاء اﷲ تعالیٰ بہت جلد ایک ایسی کتاب لکھوں گا جو عورتوں اور مَردوں دونوں کی اصلاح کے لیے ذریعہ ہدایت اور مجھ گنہگار کے لیے سامانِ آخرت بن جائے۔ چنانچہ خداوند کریم کا بے شمار شکر ہے کہ