Brailvi Books

جنتی زیور
327 - 676
دیں تاکہ اڑنے اور بکھرنے کا اندیشہ نہ ہو عورت کو کفنی یعنی کرتا پہنا کے اس کے بال کے دو حصے کر کے کفنی کے اوپر سینہ پر ڈال دیں اور اوڑھنی آدھی پیٹھ کے نیچے سے بچھا کر سر پر لا کر منہ پر مثل نقاب کے ڈال دیں کہ اس کی لمبائی آدھی پیٹھ سے سینہ تک رہے اور چوڑائی ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک رہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ،الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الثالث فی التکفین،ج۱،ص۱۶۱)
جنازہ لے چلنے کا بیان
    سنت یہ ہے کہ چار آدمی جنازہ اٹھائیں اور سنت یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے چاروں پایوں کو کندھا دے اور ہر بار دس دس قدم چلے اور پوری سنت یہ ہے کہ پہلے داہنے سرہانے کندھا دے پھر دا ہنی پائنتی پھر بائیں سر ہانے پھر بائیں پائنتی اور دس دس قدم چلے تو کل چالیس قدم ہوئے حدیث شریف میں ہے کہ جو چالیس قدم جنازہ لے چلے اس کے چالیس گناہ کبیرہ مٹا دیے جائیں گے اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ جو جنازہ کے چاروں پایوں کو کندھا دے اﷲتعالیٰ ضرور اس کی مغفرت فرمادے گا۔
    (الدرالمختار،کتاب الصلوۃ،باب فی صلوٰۃ الجنازۃ،ج۳،ص۱۵۸،۱۵۹)
مسئلہ:۔جنازہ لے چلنے میں سرہانا آگے ہونا چاہے اور عورتوں کو جنازہ کے ساتھ جانا ممنوع و ناجائز ہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ،الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الرابع فی حمل الجنازۃ، ج۱،ص۱۶۲)
مسئلہ:۔میت اگر پڑوسی یا رشتہ دار یا نیک آدمی ہو تو اس کے جنازہ کے ساتھ جانا نفل نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ 

مسئلہ:۔جنازہ کے ساتھ پیدل چلنا افضل ہے اور ساتھ چلنے والوں کو جنازہ کیمسئلہ:۔میت اگر پڑوسی یا رشتہ دار یا نیک آدمی ہو تو اس کے جنازہ کے ساتھ جانا نفل نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ 

مسئلہ:۔جنازہ کے ساتھ پیدل چلنا افضل ہے اور ساتھ چلنے والوں کو جنازہ کے پیچھے چلنا چاہے داہنے بائیں نہ چلیں اور جنازہ کے آگے چلنا مکروہ ہے۔

 پیچھے چلنا چاہے داہنے بائیں نہ چلیں اور جنازہ کے آگے چلنا مکروہ ہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ،الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الرابع فی حمل الجنازۃ، ج۱،ص۱۶۲)
Flag Counter