Brailvi Books

جنتی زیور
325 - 676
مسئلہ:۔نہلانے کا طریقہ یہ ہے کہ جس تخت پر نہلانے کا ارادہ ہو اس کو تین یا پانچ یا سات مرتبہ دھونی دیں پھر اس پر میت کو لٹا کر ناف سے گھٹنوں تک کسی پاک کپڑے سے چھپادیں پھر نہلانے والا اپنے ہاتھ میں کپڑا لپیٹ کر پہلے استنجا کرائے پھر نماز جیسا وضو کرائے مگر میت کے وضو میں پہلے گٹوں تک ہاتھ دھونا اور کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا نہیں ہے ہا ں کوئی کپڑا بھگو کر دانتوں اور مسوڑھوں اور نتھنوں پر پھرا دیں پھر سر اور داڑھی کے بال ہوں تو گل خیر و یا پاک صابون سے دھوئیں ورنہ خالی پانی بھی کافی ہے پھر بائیں کروٹ پر لٹا کر سر سے پاؤں تک بیری کے پتوں کا جوش دیا ہوا پانی بہائیں کہ تخت تک پانی پہنچ جائے پھر دا ہنی کروٹ پر لٹا کر اسی طرح پانی بہائیں اگر بیری کے پتوں کا ابالا ہوا پانی نہ ہو تو سادہ نیم گرم پانی کافی ہے پھر ٹیک لگا کر بٹھائیں اور نرمی سے پیٹ سہلائیں اگر کچھ نکلے تو دھو ڈالیں اور غسل کو دہرانے کی ضرورت نہیں پھر آخر میں سر سے پاؤں تک کافور کا پانی بہائیں پھر اس کے بدن کوکسی پاک کپڑے سے آہستہ آہستہ پونچھ کر سکھائیں۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ،الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الثانی فی الغسل،ج۱،ص۱۵۸)
مسئلہ:۔مرد کو مرد نہلائے اور عورت کو عورت اور چھوٹا لڑکا ہو تو اسے عورت بھی نہلا سکتی ہے اور چھوٹی لڑکی ہو تو مرد بھی اس کو غسل دے سکتا ہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ،الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الثانی فی الغسل،ج۱،ص۱۶۰)
مسئلہ:۔عورت مر جائے تو شوہر نہ اسے نہلا سکتا ہے نہ چھو سکتا ہے ہاں دیکھنے کی ممانعت نہیں۔
 (ردالمحتار،کتاب الصلاۃ،مطلب القرأۃ عذر المیت ،ج۳،ص۱۰۵)
    عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ شوہر عورت کے جنازے کو نہ کندھا دے سکتا ہے نہ قبر
Flag Counter