اگر دوسرے کی طرف سے بھی کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے دوسری قربانی کا انتظام کرے۔
مسئلہ:۔قربانی کا جانور موٹا تازہ اچھا اور بے عیب ہونا ضروری ہے اگر تھوڑا سا عیب ہوتو قربانی مکروہ ہوگی اور اگر زیادہ عیب ہے تو قربانی ہوگی ہی نہیں۔
(ردالمحتار، کتاب الاضحیۃ، ج۹،ص۵۳۶)
مسئلہ:۔اندھا' لنگڑا' کانا' بیحد دبلا' تہائی سے زیادہ کان'دم' سینگ' تھن وغیرہ کٹا ہوا' پیدائشی بے کا ن کا' بیمار' ان سب جانوروں کی قربانی جائز نہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الاضحیۃ،الباب الخامس،ج۵،ص۲۹۷۔۲۹۸)
قربانی کا یہ طریقہ ہے کہ جانور کو بائیں پہلو پر اس طرح لٹائیں کہ اس کا منہ قبلہ کی طرف ہو پھر یہ دعا پڑھیں۔
اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ حَنِیۡفًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۲﴾ۙلَا شَرِیۡکَ لَہٗ ۚ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿۱۶۳﴾
اور جانور کے پہلو پر اپنا داہنا پاؤں رکھ کر
اَللّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ بِسْمِ اللہِ اَﷲُاَکْبَرُ