Brailvi Books

جنتی زیور
316 - 676
کو بند نہیں کرنا چاہے کہ عوام جس طرح بھی اﷲعزوجل ورسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا نام لیں غنیمت ہے لیکن ان لوگوں کو چار رکعت ظہر کی نماز پڑھنی ضروری ہے۔ 

دوسری شرط)دوسری شرط یہ ہے کہ بادشاہ اسلام یا اس کا نائب جمعہ قائم کرے اور اگر وہاں اسلامی حکومت نہ ہو تو سب سے بڑا سنی صحیح العقیدہ عالم دین اس شہر کا جمعہ قائم کرے کہ بغیر اس کی اجازت کے جمعہ قائم نہیں ہوسکتا اور اگر یہ بھی نہ ہو تو عام لوگ جس کو امام بنائیں وہ جمعہ قائم کرے ہر شخص کو یہ حق نہیں کہ جب چاہے جمعہ قائم کرے۔

تیسری شرط)ظہر کا وقت ہونا ہے لہٰذاوقت سے پہلے یا بعد میں جمعہ کی نماز پڑھی گئی تو جمعہ کی نماز نہیں ہوگی اور اگر جمعہ کی نماز پڑھتے پڑھتے عصر کا وقت شروع ہو گیا تو جمعہ باطل ہو گیا۔

چوتھی شرط)یہ ہے نماز جمعہ سے پہلے خطبہ ہو جائے خطبہ عربی زبان میں ہونا چاہے عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں پورا خطبہ پڑھنا یا عربی کے ساتھ کسی دوسری زبان کو ملانا یہ خلاف سنت اور مکروہ ہے۔

پانچویں شرط)جمعہ جائز ہونے کی پانچویں شرط جماعت ہے جس کے لئے امام کے سوا کم سے کم تین مردوں کا ہونا ضروری ہے۔

چھٹی شرط)اذنِ عام ہونا ضروری ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد کا دروازہ کھول دیا جائے تاکہ جس مسلمان کا جی چاہے آئے کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو لہٰذا بند مکان میں جمعہ پڑھنا جائز نہیں ہوگا۔
        (الدرالمختار،کتاب الصلاۃ،باب الجمعۃ،ج۳،ص۶،۲۹)
Flag Counter