Brailvi Books

جنتی زیور
315 - 676
مسئلہ:۔جمعہ فرض ہونے کے لئے مندرجہ ذیل گیارہ شرطیں ہیں:۔

(۱)شہر میں مقیم ہونا لہذا مسافر پر جمعہ فرض نہیں(۲)آزاد ہونا لہذا غلام پر جمعہ فرض نہیں (۳)تندرستی یعنی ایسے مریض پر جمعہ فرض نہیں جو جامع مسجد تک نہیں جاسکتا (۴)مرد ہونا یعنی عورت پر جمعہ فرض نہیں (۵)عاقل ہونا یعنی پاگل پر جمعہ فرض نہیں (۶)بالغ ہونا یعنی بچے پر جمعہ فرض نہیں (۷)انکھیارا ہونا لہٰذا اندھے پر جمعہ فرض نہیں (۸)چلنے کی قدرت رکھنے والا ہو یعنی اپاہج اور لنجے پر جمعہ فرض نہیں(۹)قید میں نہ ہونا لہٰذا جیل خانہ کے قیدیوں پر جمعہ فرض نہیں(۱۰)حاکم یا ظالم وغیرہ کا خوف نہ ہونا (۱۱)بارش کا آندھی کا اس قدر زیادہ نہ ہونا جس سے نقصان کا قوی اندیشہ ہو۔
 (الدرالمختار وردالمحتار ، کتاب الصلاۃ،باب الجمعۃ، مطلب فی شروط وجوب الجمعۃ،ج۳،ص۳۰،۳۳)
مسئلہ:۔جن لوگوں پر جمعہ فرض نہیں مثلاً مسافر اور اندھے وغیرہ اگر یہ لوگ جمعہ پڑھیں تو ان کی نماز جمعہ صحیح ہوگی یعنی ظہر کی نماز ان لوگوں کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گی۔

(۱)جمعہ جائز ہونے کے لئے چھ شرطیں ہیں یعنی ان میں سے ایک بھی اگر نہیں پائی گئی تو جمعہ ادا ہوگا ہی نہیں۔

پہلی شرط)جمعہ جائز ہونے کی پہلی شرط شہریا شہری ضروریات سے تعلق رکھنے والی جگہ ہونا ہے شریعت میں شہر سے مراد وہ آبادی ہے کہ جس میں متعدد سڑکیں گلیاں اور بازار ہوں اور وہ ضلع یا تحصیل کا شہر یا قصبہ ہو کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہیں اور اگر ضلع یا تحصیل نہ ہو تو ضلع یا تحصیل جیسی بستی ہو ۔جمعہ جائز ہونے کے لئے ایسی بستی کا ہونا شرط ہے لہٰذا چھوٹے چھوٹے گاؤں میں جمعہ نہیں پڑھنا چاہے بلکہ ان لوگوں کو روزانہ کی طرح ظہر کی نماز جماعت سے پڑھنی چاہے لیکن جن گاؤں میں پہلے سے جمعہ قائم ہے جمعہ
Flag Counter