Brailvi Books

جنتی زیور
317 - 676
نماز عید ین کا بیان
    عید و بقرعید کی نماز واجب ہے مگر سب پر نہیں بلکہ صرف انہیں لوگوں پر جن لوگوں پر جمعہ فرض ہے بلاوجہ عیدین کی نماز چھوڑنا سخت گناہ ہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع عشر فی صلاۃ العیدین ،ج۱، ص۱۵۰/ الجوہرۃ،النیرۃ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ العیدین،ص۱۱۹)
مسئلہ:۔عیدین کی نماز واجب ہونے اور جائز ہونے کی وہی شرطیں ہیں جو جمعہ کے لئے ہیں فرق اتنا ہے کہ جمعہ کا خطبہ شرط ہے اور عیدین کا خطبہ سنت ہے دوسرا فرق یہ بھی ہے کہ جمعہ کا خطبہ نماز جمعہ سے پہلے ہے اور عیدین کا خطبہ نماز عیدین کے بعد ہے اور ایک تیسرا فرق یہ بھی ہے کہ جمعہ کے لئے اذان و اقامت ہے اور عیدین کے لئے نہ اذان ہے نہ اقامت صرف دوبار اَلصَّلوٰۃُ جَامِعَۃٌ کہہ کر نماز عیدین کے اعلان کی اجازت ہے۔
 (الردالمحتار، کتاب الصلاۃ ، باب العیدین، مطلب فی الفأل والطیرۃ،ج۳،ص۵۰۔۵۱)
مسئلہ:۔عیدین کی نماز کا وقت ایک نیزہ سورج بلند ہونے سے زوال کے پہلے تک ہے۔
    (الدرالمختار، کتاب الصلاۃ ، باب العیدین، ج۳،ص۶۰۔۶۱)
مسئلہ:۔عید کے دن یہ باتیں مستحب ہیں :۔

(۱)حجامت بنوانا (۲)ناخن کٹوانا (۳)غسل کرنا (۴)مسواک کرنا (۵)اچھے کپڑے پہننا نئے ہوں یا پرانے (۶)انگوٹھی پہننا (۷)خوشبو لگانا (۸)صبح کی نماز محلّہ کی مسجد میں پڑھنا(۹)عید گاہ جلد چلے جانا (۱۰)نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا (۱۱)عیدگاہ کو پیدل جانا(۱۲)دوسرے راستہ سے واپس آنا (۱۳)عید گاہ کو جانے سے پہلے چند کھجوریں کھا لینا تین پانچ سات یا کم زیادہ مگر طاق ہوں کھجوریں نہ ہوں تو کوئی میٹھی چیز کھا لے(۱۴)خوشی ظاہر کرنا (۱۵)صدقہ و خیرات کرنا
Flag Counter