Brailvi Books

جنتی زیور
314 - 676
مسئلہ:۔اگر چند مہینے یا چند برسوں کی قضا نمازوں کو پڑھے تو نیت کرنے میں جو نماز پڑھنی ہے اس کا نام لے اور اس طرح نیت کرے مثلاً نیت کی میں نے' دو رکعت نماز فجر کی' جو میرے ذمہ باقی ہیں ان میں سے پہلی فجر کی' اﷲتعالیٰ کے لئے' منہ میرا طرف کعبہ شریف کے اﷲاکبر اس طریقہ پر دوسری قضا نمازوں کی نیتوں کو سمجھ لیناچاہے۔
 (ردالمحتار،کتاب الصلاۃ،مطلب اذا اسلم المرتد ھل تعود حسناتہ ام لا ،ج۲،ص۶۵۰)
مسئلہ:۔جو رکعتیں ادا میں سورہ ملا کرپڑھی جاتی ہیں وہ قضا میں بھی سورہ ملا کر پڑھی جائیں گی اور جو رکعتیں ادا میں بغیر سورہ ملائے پڑھی جاتی ہیں قضا میں بھی بغیر سورہ ملائے پڑھی جائیں گی۔
    (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصلاۃ،الباب الحادی عشر،ج۱،ص۱۲۱)
مسئلہ:۔مسافرت کی حالت میں جب کہ قصر کرتا تھا اس وقت کی چھٹی ہوئی نمازوں کو اگر وطن میں بھی قضا کریگا جب بھی دو ہی رکعت پڑھے گا اور جو نمازیں مسافر نہ ہونے کے زمانے میں قضا ہوئی ہیں اگر سفر میں بھی ان کی قضا پڑھے گا تو چار ہی رکعت پڑھے گا۔
 (ردالمحتار،کتاب الصلاۃ،مطلب اذا اسلم المرتد ھل تعود حسنانۃام لا ،ج۲،ص۶۵۰)
جمعہ کا بیان
    جمعہ فرض ہے اور اس کا فرض ہونا ظہر سے زیادہ مؤکدہ ہے اس کا منکر کافر ہے
            (الدرالمختار،کتاب الصلاۃ،باب الجمعۃ، ج۳،ص۵)
حدیث شریف میں ہے کہ جس نے تین جمعے برابر چھوڑ دیے اس نے اسلام کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا وہ منافق ہے۔
 (مجمع الزوائد،کتاب الصلاۃ،باب فیمن ترک الجمعۃ،رقم ۳۱۷۷۔۳۱۷۸،ج۲،ص۴۲۲)
اور اﷲ سے بے تعلق ہے ۔
Flag Counter