| جنتی زیور |
مسئلہ:۔فرض نمازوں کی قضا فرض ہے وتر کی قضا واجب ہے اور فجر کی سنت اگر فرض کے ساتھ قضا ہو اور زوال سے پہلے پڑھے تو فرض کے ساتھ سنت بھی پڑھے اور اگر زوال کے بعد پڑھے تو سنت کی قضا نہیں جمعہ اور ظہر کی سنتیں قضا ہو گئیں اور فرض پڑھ لیا اگر وقت ختم ہو گیا تو ان سنتوں کی قضا نہیں اور اگر وقت باقی ہے تو ان سنتوں کو پڑھے اور افضل یہ ہے کہ پہلے فرض کے بعد والی سنتوں کو پڑھے پھر ان چھٹی ہوئی سنتوں کو پڑھے۔
(الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الصلاۃ،باب قضاء الفوائت ،ج۲،ص۶۳۳)
مسئلہ:۔جس شخص کی پانچ نمازیں یا اس سے کم قضا ہوں اس کو صاحب ترتیب کہتے ہیں اس پر لازم ہے کہ وقتی نماز سے پہلے قضا نمازوں کو پڑھ لے اگر وقت میں گنجائش ہوتے ہوئے اور قضا نماز کو یاد رکھتے ہوئے وقتی نماز کو پڑھ لے تو یہ نماز نہیں ہوگی۔ مزید تفصیل ''بہار شریعت'' میں دیکھنی چاہے۔
(الدرالمختار، کتاب الصلاۃ،باب قضاء الفوائت،ج۲،ص۶۳۳۔۶۳۴)
مسئلہ:۔چھ نمازیں یا اس سے زیادہ نمازیں جس کی قضا ہوگئی ہوں وہ صاحب ترتیب نہیں اب یہ شخص وقت کی گنجائش اور یاد ہونے کے باوجود اگر وقتی نماز پڑھ لے گا تو اس کی نماز ہو جائے گی اور چھوٹی ہوئی نمازوں کو پڑھنے کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں ہے عمر بھر میں جب بھی پڑھ لے گا بری الذمہ ہو جائے گا۔
(الدرالمختار،کتاب الصلاۃ،باب قضاء الفوائت،ج۲،ص۶۳۷)
مسئلہ:۔جس روز اور جس وقت کی نماز قضا ہو جب اس نماز کی قضا پڑھے تو ضروری ہے کہ اس روز اور اس وقت کی قضا کی نیت کرے مثلاً جمعہ کے دن فجر کی نماز قضا ہوگئی تو اس طرح نیت کرے کہ نیت کی میں نے دو رکعت جمعہ کے دن کی نماز فجر کی' اﷲتعالیٰ کے لئے، منہ میرا طرف کعبہ شریف کے، اﷲاکبر۔
(ردالمحتار،کتاب الصلاۃ،مطلب اذا اسلم المرتد ھل تعود حسناتہ ام لا ،ج۲،ص۶۵۰)