| جنتی زیور |
ہو جائے تو امام کے ساتھ وتر کی نماز جماعت سے پڑھ لے پھر اس کے بعد تراویح کی چھوٹی ہوئی رکعتوں کو ادا کرے بشرط یہ کہ عشاء کے فرض جماعت سے پڑھ چکا ہو اور اگر چھوٹی ہوئی تراویح کی رکعتوں کو ادا کرکے وتر تنہا پڑھے تو یہ بھی جائز ہے مگر پہلی صورت افضل ہے۔
(درالمختار،کتاب الصلاۃ، باب الوتروالنوافل،ج۲،ص۵۹۸)
مسئلہ:۔اگر کسی وجہ سے تراویح میں ختم قرآن نہ ہو سکے تو سورتوں سے تراویح پڑھیں اور اس کے لئے بعضوں نے یہ طریقہ رکھا ہے کہ الم ترکیف سے آخر تک دوبار پڑھنے میں بیس رکعتیں ہو جائیں گی۔
(ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، مبحث صلاۃ التراویح، ج۲،ص۶۰۲)
مسئلہ:۔بلا کسی عذر کے بیٹھ کر تراویح پڑھنا مکروہ ہے بلکہ بعض فقہا کے نزدیک تو ہوگی ہی نہیں
(درمختار ج۱ص۴۷۵)
ہاں اگر بیمار یا بہت زیادہ بوڑھا اور کمزور ہو تو بیٹھ کر تراویح پڑھنے میں کوئی کراہت نہیں کیونکہ یہ بیٹھنا عذر کی وجہ سے ہے۔
(الدرالمختار، کتاب الصلاۃ، باب الوتروالنوافل، ج۲،ص۶۰۳)
مسئلہ:۔نابالغ کسی نماز میں امام نہیں بن سکتا
(الھدایۃ و فتح القدیر،کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ،ج۱،ص۳۶۷،۳۶۸)
اسی طرح نابالغ کے پیچھے بالغوں کی تراویح نہیں ہوگی صاحب ہدایہ وصاحب فتح القدیر نے اسی قول کو مختار بتایا ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصلاۃ،الباب التاسع فی النوافل،فصل فی التراویح،ج۱،ص۱۱۶،۱۱۷)
نمازوں کی قضا کا بیان
مسئلہ:۔کسی عبادت کو اس کے مقرر وقت پر ادا کرنے کو ادا کہتے ہیں اور وقت گزر جانے کے بعد عمل کرنے کو قضا کہتے ہیں۔
(ردالمحتار،کتاب الصلاۃ،مطلب فی ان الامر یکون ۔۔۔الخ،ج۲،ص۶۲۹)