Brailvi Books

جنتی زیور
308 - 676
ہُوَ اللہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ عٰلِمُ الْغَیۡبِ وَ الشَّہٰدَۃِۚ ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیۡمُ
پھر تین بار
سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ ؕ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللہِ
پڑھے پھر تین بار کوئی درود شریف پڑھے پھر یہ دعا پڑھے
    لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ ؕ سُبْحَانَ اللہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اَسْئَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالْغَنِیْمَۃَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ وَّالسَّلَامَۃَ مِنْ کُلِّ اِثْمٍ لَاتَدْعُ لِیْ ذَنْباً اِلَّا غَفَرْتَہٗ وَلَآ ھَمّاً اِلَّا فَرَّجْتَہٗ وَلَا حَاجَۃً ھِیَ لَکَ رِضاً اِلَّا قَضَیْتَھَا یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ ۔
     (جامع الترمذی،کتاب الوتر،باب صلاۃ الحاجۃ،رقم۴۷۸،ج۲،ص۲۱)
ان شاء اﷲ تعالیٰ اس کی حاجت پوری ہوگی اسی طرح حضرت عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک صاحب جو نابینا تھے بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! آپ دعا کیجیے کہ اﷲتعالیٰ مجھے عافیت دے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم چاہو تو صبر کرو اور یہ تمہارے حق میں بہتر ہے انہوں نے عرض کی کہ حضور دعا کردیں تو  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کو یہ حکم دیا کہ تم خوب اچھی طرح وضو کرو اور دو رکعت نماز پڑھ کر یہ دعا پڑھو
     اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ وَاَتَوَجَّہُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ نَّبِیِّ الرَّحْمَۃِ یَا رَسُوْلَ اللہِ اِنِّیْ تَوَجَّھْتُ بِکَ اِلٰی رَبِّیْ فِیْ حَاجَتِیْ ھَذِہٖ لِیُقْضٰی لِیْ اَللّٰھُمَّ فَشَفِّعْہُ فِیَّ
     حضرت عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ خدا کی قسم ہم اٹھنے بھی نہ پائے تھے ابھی باتیں ہی کر رہے تھے کہ وہ نابینا ہمارے پاس انکھیارے ہو کر اس شان سے آئے کہ گویاکبھی اندھے تھے ہی نہیں ۔
 (جامع الترمذی،کتاب احادیث شتی ،باب ۱۲۷، رقم۳۵۸۹،ج۵،ص۳۳۶۔المعجم الکبیر للطبرانی،ج۹،رقم۸۳۱۱،ص۳۰)
Flag Counter